کم : اِدائُس کا جدہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱
کم : اِدائُس کا جدہ
یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا کے ذریعے اُس کو وجود میں لائے۔ حضرت موسیٰ، خدا کے پیغمبر تھے۔ انھوں نے ایک لکڑی زمین پر ڈالی اور خدا کے حکم سے وہ ایک زندہ سانپ بن گئی۔ خدا چاہتا تو اسی طرح پوری کائنات کو اچانک معجزاتی طور پر پیدا کر دیتا۔ مگر ایسا کرنے کی صورت میں انسان کے اندر تخلیقیت (creativity) کا ارتقانہ ہوتا، نہ سائنس بنتی اور نہ تہذیب وجود میں آتی۔ اس لیے خالق نے کائنات کو ایک لمبے پراسس (process) کے روپ میں پیدا کیا، تاکہ انسان اپنی سوچ کو عمل میں لائے اور ذہنی ارتقا کے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکے۔
یہ ایک لمبا منصوبہ تھا۔ چناں چہ اس کی تکمیل میں تقریباً 15 بلین سال گزر گئے۔ موجودہ گلوبل وارمنگ، خالق کی طرف سے اس بات کا الارم ہے کہ تخلیق کا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا، یعنی افراد کے انتخاب کا مرحلہ۔ اب خالق کائنات کا ئنات کا پردہ پھاڑ کر سامنے آ جائے گا۔ وہ کامل انصاف کے مطابق، لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان جاگے اور تیاری کر کے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ قیامت کے بعد بننے والی اگلی دنیا میں وہ ابدی جنت میں جگہ پا سکے۔ سياست دنیا میں دیانتداری کم ، ماری پٹائی زیادہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues