Al-Risala · September 2008 · page 20

پندرہ بلین سالہ منصوبہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰

اس کے بعد خدا کے منصوبے کا ایک اور حصہ ظہور میں آیا۔ یہ پیغمبروں کا پیدا ہونا تھا۔ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے درمیان خالق نے اپنے پیغمبر بھیجے۔ یہ تمام پیغمبر، انسان تھے۔ خالق نے ان کو خصوصی طور پر اس لیے بھیجا کہ وہ انسانوں کو ان کی قابل فہم (understandable) زبان میں یہ بتائیں کہ ان کے بارے میں خالق کا تخلیقی پلان (creation plan) کیا ہے۔

پیغمبروں کی آمد کا یہ سلسلہ لمبی مدت تک چلتا رہا۔ پہلے انسان، آدم خود بھی ایک پیغمبر تھے۔ اس کے بعد ہر نسل میں پیغمبر آتے رہے۔ مثلاً حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور آخر میں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔

پیغمبروں کے ذریعے خدا نے ہر نسل کے انسانوں کو بتایا کہ موجودہ دنیا سلیکشن گراؤنڈ کے طور پر بنائی گئی ہے۔ انسان کی آباد کاری کی اصل اور ابدی جگہ تو جنت ہے۔ جنت ابدی بھی ہے اور ہر اعتبار سے آئیڈیل بھی۔ مگر جنت میں داخلہ صرف انتخابی بنیاد (selective basis) پر ہوگا۔ موجودہ دنیا میں خالق کی طرف سے غیر مرئی (invisible) ریکارڈنگ کا نظام عالمی پیمانے پر قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت، ہر عورت اور ہر مرد کے قول و عمل کا مسلسل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ریکارڈ قیامت کے دن سامنے آجائے گا۔ پھر لوگوں کے اعمال کے ریکارڈ کے مطابق، اُن افراد کو منتخب کیا جائے گا، جو اپنے عمل کے اعتبار سے جنت کی کامل دنیا میں بسائے جانے کے اہل ثابت ہوں گے۔ بقیہ لوگوں کو چھانٹ کر انھیں کائنات کے کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا، تاکہ وہ ابدی طور پر محرومی اور حسرت کے عذاب کو بھگتے رہیں۔

خالق نے چاہا کہ وہ کچھ منتخب لوگوں کو اپنے اس خصوصی انعام سے نوازے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ہر قسم کی لذت اور مسرت کے ماحول میں ابدی طور پر آباد رہیں، اور اپنی ہستی کے کامل فل فل مینٹ (fulfilment) کا تجربہ کریں۔ یہ خالق کی خصوصی طور پر دی ہوئی ایک انوکھی رحمت ہوگی جو صرف منتخب قسم کے کچھ خوش قسمت لوگوں کے حصے میں آئے گی۔

خالق نے چاہا کہ وہ چمکار کے طور پر اس دنیا کو پیدا نہ کرے، بلکہ وہ پوری طرح اسباب و علل

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page