ہر طرف بے خوفی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۳
بھی یہی ہے کہ موت، انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت کے بعد بھی انسانی زندگی باقی رہتی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ مذاہب مشترک طور پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان موت کے بعد بار بار اسی دنیا میں جنم لیتا رہتا ہے، کبھی انسان کی صورت میں، اور کبھی کسی غیر انسان کی صورت میں۔ مگر اس نئے جنم کے دوران انسان کا حافظہ پُراسرار طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوئی انسان اگر اپنے پہلے جنم میں خوب صحت مند ہو اور وہ برائیاں کرے، تو اگلے جنم میں وہ ناقص الاعضا (disabled) انسان کی صورت میں پیدا ہوگا۔ مگر اُس انسان کو یہ یاد نہیں ہوگا کہ وہ اپنے پچھلے کرم کی وجہ سے اس ناقص صورت میں پیدا ہوا۔ اس عدمِ حافظہ کی بنا پر اس کے اندر نہ ندامت (repentance) پیدا ہوتی ہے اور نہ اُس کے اندر محاسبہ (introspection) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ بدستور بے خبری میں جیتا ہے اور بے خبری میں مر جاتا ہے۔ اس معاملے میں ٹھیک یہی حال خود مسلمانوں کا بھی ہے۔ بظاہر تمام مسلمان، زندگی بعد موت کے تصور کو مانتے ہیں۔ وہ جنت اور جہنم پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، آخرت کے بارے میں بے خوف ہیں، اُن کو اپنے لیے جہنم کا کوئی اندیشہ نہیں۔ اس کا سبب دوبارہ یہی ہے کہ انھوں نے بطور خدا ایسے فرضی عقیدے بنا لیے ہیں جس کے مطابق، اُنھیں اپنی نجات آخرت بالکل یقینی دکھائی دیتی ہے۔
مثلاً تمام مسلمان، شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ایک اسپیشل گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں، جو عورت یا مرد مسلم خاندان میں پیدا ہو جائے، اس کی جنت یقینی ہو جاتی ہے۔ یہ عقیدہ بلاشبہ ایک خود ساختہ عقیدہ ہے۔ اس کا قرآن اور حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر وہ اتنا زیادہ عام ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کے دماغوں میں بسا ہوا ہے، خواہ وہ مسلمان عالم ہو یا غیر عالم، وہ امیر ہو یا غریب، وہ خواص کے طبقے سے تعلق رکھتا ہو یا عوام کے طبقے سے، سب اس کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔ دوسری زندگی کا عقیدہ انسان کو برائی سے روکنے کے لیے ایک طاقت ور محرک کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن جب اس عقیدے کے ساتھ مذکورہ قسم کے خود ساختہ عقیدے شامل کر لیے جائیں تو اُس کے بعد دوسری زندگی کو ماننا عملاً ایسا ہی ہو جاتا ہے، جیسے کہ اس کو نہ ماننا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues