قیامت کے دروازے پر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۴
قیامت کے دروازے پر
25 جون 2008 کی صبح کو میں آل انڈیا ریڈیو سے خبریں سن رہا تھا۔ خبروں کے آخر میں حسب معمول کھیل کی کنٹری آنے لگی۔ ومبلڈن (Wimbledon) سے رپورٹ دیتے ہوئے، رپورٹر نے کہا کہ۔ ندال (Rafael Nadal) زبردست جیت کے دروازے پر:
Nadal on the threshold of a landslide victory.
ان الفاظ کو سن کر میں نے سوچا کہ لوگ کتنی زیادہ بڑی بھول میں مبتلا ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عظیم کامیابی کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں، حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ندال سمیت پوری انسانیت آج قیامت کے دروازے پر کھڑی ہوئی ہے:
Nadal as well as whole humanity is on the threshold of Doomsday. قرآن کی سورہ نمبر 23 میں تمام انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے خداوند عالم نے فرمایا: تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے، اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے: Do you think that we created you without any purpose, and that you shall not be returned to Us. (23:115)
قرآن میں اس طرح کی مختلف آیتیں ہیں جن میں خدا کا کری ایشن پلان (creation plan) بتایا گیا ہے۔ اس کے مطابق، خدا نے ایک آئیڈیل دنیا بنائی جس کو جنت (paradise) کہا گیا ہے۔ یہ آئیڈیل دنیا ابدی ہے (البقرة: 25)۔ وہ خوف اور حزن سے خالی ہے (فاطر: 34)۔ وہاں انسان کے لیے کامل فل فل منٹ (fulfilment) کا سامان موجود ہے (حم السجدة: 31)۔ اس کے بعد خدا نے سیارۂ زمین کو بنایا اور پھر یہاں انسانی نسل کو آباد کیا۔ خدا نے انسان کو آزادی (freedom) عطا کی اور زمین پر بقاء حیات کے تمام اسباب فراہم کیے، جن کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، سیارۂ زمین کی حیثیت ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground) کی ہے۔ خدا کے فرشتے یہاں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues