Al-Risala · January 2008 · page 40

Wahiduddin Khan and Revival of Religious Thought

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۰

خبرنامہ اسلامی مرکز — 181

1- میرٹھ (یوپی) میں ہر سال ایک بڑا میلہ لگتا ہے جس کو نوچندی کا میلہ کہا جاتا ہے۔ اس میں ہر قسم کے سامان لائے جاتے ہیں۔ میرٹھ سے مسٹر ساجد نے بذریعہ ٹیلی فون بتایا کہ اس سال الرسالہ مشن کی طرف سے نوچندی میلے میں بک اسٹال لگایا گیا۔ یہ بک اسٹال 15 مئی 2007 کو شروع ہوا، اور 21 مئی 2007 کو ختم ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ الرسالہ مشن کے بک اسٹال پر کافی لوگ آئے، جن میں ہندو اور مسلمان دونوں حضرات شامل تھے۔ انھوں نے بک اسٹال سے کتابیں حاصل کیں۔ ہندو صاحبان نے قرآن کا ہندی ترجمہ بڑی تعداد میں لیا۔ مسٹر ساجد، مسٹر شہزاد اور دوسرے ساتھیوں نے آنے والوں کا نام اور پتہ درج کر لیا، تاکہ بعد کون سے رابطہ قائم کیا جاسکے۔ 2- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے ہال میں 23 مئی 2007 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور پروگرام کے مطابق، بیسک ہیمون ویلوز ان اسلام (Basic Human Values in Islam) کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ ان کو 45 منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔ آدھ گھنٹہ تقریر کے لیے اور 15 منٹ سوال و جواب کے لیے۔ اس موقع پرسی پی ایس کے ساتھیوں نے لوگوں سے انٹریکشن بھی کیا اور ان کے درمیان دعوتی بروثر تقسیم کیے۔

3- مصر (دمیاط، الجدیدة) سے اشرف احمد عماشہ کا خط مورخہ 27 مئی 2007 موصول ہوا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ وہ اپنی یونی ورسٹی (جامعة المنوفية، الأزهر) کے تحت ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے ریسرچ کر رہے ہیں۔ ان کی ریسرچ کا موضوع یہ ہے— مولانا وحید الدین خان اور تجدید دین:

Wahiduddin Khan and Revival of Religious Thought

اس سلسلے میں انھوں نے ضروری مواد طلب کیا ہے جو اُن کو بھیجا جا رہا ہے۔

4- راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر وجے کمار نے 29 مئی 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلے سے تھا کہ تشدد کیوں کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اس سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ نوجوان اکثر نیوز میں آنے کے لیے تشدد کرتے ہیں۔ ان کو سمجھایا جائے کہ اس سے کوئی فائدہ ملنے والا نہیں، پڑھو اور ترقی کرو۔

5- ٹائمس ناؤ (Times Now) ٹی وی چینل (نئی دہلی) نے 30 مئی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوال یہ تھا کہ کشمیر کے ایک مفتی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ فوج کے ذریعے مسجد کی مرمت کرنا جائز نہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ ایک غلط فتویٰ ہے۔ یہ فتوے کا سیاسی استعمال ہے۔ فتویٰ ایک خالص دینی ادارہ ہے۔ اور کسی دینی ادارے کا سیاسی استعمال اسلام میں درست نہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاست کو دین سے الگ رکھیں ۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page