Wahiduddin Khan and Revival of Religious Thought
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱
6- ایرانی نیوز ایجنسی (نئی دہلی) کے نمائندے نے 30 مئی 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوال یہ تھا کہ خبر کے مطابق بمبئی میں ایک لاکھ ہر یجنوں نے بدھ ازم کو قبول کر لیا ہے۔ کیا اس کا سبب یہ تھا کہ اگر وہ اسلام قبول کرتے تو ان کو رعایات سے محروم ہونا پڑتا۔ جواب میں کہا گیا کہ ایسا نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر متشددانہ مذہب کی ہو گئی ہے، جب کہ بدھ ازم کی تصویر پرامن مذہب کی تصویر ہے۔ ایسی حالت میں ہریجن لوگ فطری طور پر وہی انتخاب کر سکتے تھے جو انھوں نے کیا۔
7- بی بی سی لندن کے نمائندے مسٹر شکیل اختر نے 13 جون 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کا سوال یہ تھا کہ آج کل ایک رقص رائج ہو رہا ہے۔ اس میں رقصا یہ علی، یا علی کہہ کر اپنا فن دکھاتی ہے ۔ اس کے بارے میں اسلام کا حکم کیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص یا علی استمداد کے طور پر بولتا ہے تو وہ اسلام میں جائز نہیں۔ لیکن اگر وہ ایک کلچرل شو کا حصہ ہو تو اس کو نظر انداز کیا جائے گا۔ 8- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 13 جون 2007 کو حسب معمول ایک سیمینار ہوا۔ اس سیمینار میں اسکولوں کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کے بنیادی انسانی اقدار (Basic Human Values in Islam) کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کا وقت آدھ گھنٹہ تھا۔ اس کے بعد پندرہ منٹ سوال وجواب ہوا۔ سیمینار میں شریک ہونے والے یہ سب پرنسپل دہلی کے باہر سے آئے ہوئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کے مطابق سچائی کا ماخذ صرف وحی (revelation) ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ سچائی کا ماخذ خود آدمی کے اپنے اندر ہے، جیسا کہ ہندو لوگ مانتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک فلسفہ ہے، وہ اصل سوال کا جواب نہیں۔
9- راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر یا مین نے 20 جون 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو اسلام میں نکاح کی حیثیت کے موضوع پر تھا۔ اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ اسلام میں نکاح کی حیثیت پر روشنی ڈالی گئی۔
10- نوئیڈا (Noida) میں ناگرک مہاسنگھ کے نام سے ایک تنظیم قائم ہے۔ اس کے صدرائروائس مارشل مسٹر و شوموہن تواری ہیں۔ اس تنظیم کی طرف سے یکم جولائی 2007 کو ایک جلسہ کیا گیا۔ اس جلسے میں تعلیم یافتہ ہندو شریک ہوئے۔ اس کا مقام نوئیڈا کا کیلاش ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ خطاب کا موضوع تھا: اسلام میں مساوات انسانی کا تصور۔ یہ جلسہ صرف صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ انھوں نے مذکورہ موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اس کے بعد آدھے گھنٹے تک سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ اس موقع پر لوگوں کو سی پی ایس انٹرنیشنل کے دعوتی برو شر پڑھنے کے لیے دیئے گئے۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق کے ساتھ لیا اور اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues