Sex is a matter of choice.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۱
کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ وہ دبی ہوئی صنفی توانائی کا اظہار ہیں۔ فرائڈ نے اپنے اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کی تکنیک اور خواب کی صنفی تعبیر کا سہارا لیا، اس طرح اس نے بتایا کہ نفسیاتی مسائل، دبے ہوئے جذبات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اُس نے اس بات پر زور دیا کہ بعد کی زندگی میں شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری سے صنفی تعلقات قائم کیے جائیں:
...Symptoms were caused by early trauma, and were expressions of repressed sexual energy. Devised 'free association' technique and dream interpretation discover repressed experiences. Emphasized importance of infantile sexuality in personality's develpment in later life. مذکورہ قسم کے نظریات، انسان کے ہوس پرستانہ جذبات کے عین مطابق تھے۔ چناں چہ ان کو آج کی دنیا میں خوب پھیلاؤ حاصل ہوا۔ اسی کے نتیجے میں اباحیت پسند سوسائٹی (permissive society) بنی۔ اسی کے نتیجے میں’’آج‘‘، میں جینے کا نظریہ بنا، جس کو عام طور پر رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤ (right here, right now) کہا جاتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں برہنگی (nudity) ماڈرن کلچر کا حصہ بن گئی۔ ڈوز اینڈ ڈوٹس (do's and don'ts) کا قدیم نظریہ، لوگوں کو بے معنی نظر آنے لگا۔ شراب اور سیکس جیسی چیزوں پر عائد رکاوٹیں ختم ہو گئیں۔ انسان کے مطالعے کے لیے حیوان کو معیار سمجھ لیا گیا۔ زندگی کا مقصد صرف یہ بن گیا کہ ـــــ کماؤ اور عیش کرو۔
پریس میں ایک واقعہ آیا ہے کہ مغربی دنیا کے ایک شخص نے سرجری کے ذریعے اپنی صنف تبدیل کی۔ وہ مرد کے بجائے عورت بن گیا۔ پھر اس نے مرد جوڑے سے تعلقات قائم کیے ۔ اُس کو حمل قرار پایا۔ اس معاملے کو فخر کے ساتھ بتاتے ہوئے، اُس نے کہا کہ ـــــ عورت ہونا، یا مرد ہونا، یہ ہمارے اپنے انتخاب کی بات ہے:
Sex is a matter of choice.
یہ قول موجودہ زمانے کے انسان کی ترجمانی کرتا ہے۔ موجودہ زمانے کے انسان کی یہ سوچ بن گئی ہے کہ تمام اخلاقی قدریں اضافی (relative) ہیں، نہ کہ حقیقی (real)۔ کسی نے اعلان کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues