Al-Risala · September 2008 · page 30

لائف سپورٹ سسٹم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰

تباہ کر دیا۔ مغربی تہذیب کے فروغ کے بعد ایسے نظریے وضع کئے گئے جنھوں نے انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ نیچر کوئی چیز نہیں، سب کچھ صرف نرچر(nurture) پر منحصر ہے، یعنی یہ دراصل سماجی اثرات ہیں جو کسی انسان کی شخصیت کو بناتے ہیں۔ اس فلسفیانہ اسکول کو عام طور پر بیویرازم (Behaviourism) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے نے لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ربانی فطرت (divine nature) کوئی حقیقی چیز نہیں، وہ صرف ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) ہے: Behaviourism: The doctrine that valid data consists only of the observable and measurable in individual's responses, not valuing subjective or introspective accounts. اسی طرح وہ فلسفہ وضع کیا گیا جس کو افادی نظریہ (Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے نے افادیت پسندی کو وہ جگہ دے دی جو فطرت کے نظام کے تحت، اخلاقی اقدار (moral values) کو حاصل تھی۔ ذاتی مفاد نے زندگی میں وہ حیثیت اختیار کر لی جو اس سے پہلے اعلیٰ اصولی معیارات کو حاصل تھی۔ اس نظریے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: Utilitarianism: The doctrine that the greatest happiness of the greatest number should be the aim of all action. The doctrine that the worth, or value of anything is determined solely by its utility. اس نظریے نے ذاتی خوشی، یا ذاتی مفاد کو کسی شخص کی زندگی میں واحد قابل لحاظ چیز قرار دے دیا ۔ اس نظریے کے مطابق، جس چیز سے آدمی کو خوشی ملے اور جس میں اس کو اپنا مادی فائدہ نظر آئے، وہ اس کو بلا تامل اختیار کر سکتا ہے۔ اس معاملے میں ضمیر، یا فطرت کی آواز کا لحاظ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس نظریے نے فطرت کے قائم کردہ مارل سپورٹ سسٹم کو زندگی کے معاملات میں اضافی (relative) قرار دے دیا۔ اس طرح، فطرت کا قائم کیا ہوا اخلاقی نظام عملاً غیر مؤثر ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح، مارل سپورٹ سسٹم کو غیر مؤثر بنانے میں سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا بہت بڑا دخل ہے۔ اس نے اپنے نظریات کے ذریعے انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ مطلق اخلاقی اقدار کا کوئی وجود نہیں۔ اُس نے بتایا کہ نفسیاتی پیچیدگیاں ابتدائی دور کے جذباتی صدمات

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page