Biological exuberance: Animal Homosexuality and
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۳
ٹائمز آف انڈیا (30 جون، 2008) میں حسب ذیل عنوان کے ساتھ چھپی ہے : Gay pride out on capital's streets, p. 3. حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مظاہرہ کے وقت لوگوں کی طرف سے کسی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ افراد نے شرم و حیا کو کھو دیا ہے، اور سماج میں اخلاقی ضمیر کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
یورپ اور امریکہ اور کینڈا میں یہ موضوع کھلے ڈسکشن کا موضوع بن چکا ہے۔ مختلف یونی ورسٹیوں میں اس موضوع پر باقاعدہ رسرچ ہو رہی ہے۔ رسرچ کرنے والے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہم جنسی کا رجحان خود نیچر کے اندر موجود ہے۔ اس معاملے میں وہ بعض چڑیوں اور بعض کیڑوں (insects) کی مثال دیتے ہیں۔ ان نام نہاد تحقیقات کے بارے میں کئی کتابیں چھپی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب یہ ہے:
Biological exuberance: Animal Homosexuality and
Natural Diversity, by Bruce Bagemihl (Published in 1999)
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (29 جون، 2008) میں اس کی رپورٹ تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے:
Homosexuality: Nature or Nurture
یہ صرف ایک مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی حقیقی رسرچ۔ انسان کے بارے میں سائنٹفک رسرچ وہ ہے جو خود انسان پر کی گئی ہو اور انسان کے حیاتیاتی نظام کے مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہو۔ مذکورہ رسرچ میں یہ کیا گیا ہے کہ بعض کیڑوں کا مطالعہ کیا گیا اور ان کیڑوں کی بعض عادات معلوم کر کے ان کو انسان کے اوپر چسپاں کر دیا گیا۔ یہ ایک قیاس مع الفارق ہے، اور اس قسم کا قیاس سائنسی طور پر معتبر نہیں۔ چار ہزار سال پہلے قوم لوط ٹھیک اسی عمل میں مبتلا ہوئی تھی۔ جب پیغمبرانہ انداز کے باوجود انھوں نے اپنی اس روش کو ترک نہیں کیا، تو اُن پر خدا کی طرف سے ہلاکت خیز عذاب بھیجا گیا۔ اس کے بعد ہمیشہ کے لیے اُس قوم کا خاتمہ ہو گیا۔ اب یہی عمل مزید اضافے کے ساتھ، ساری دنیا میں پھیل
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues