Al-Risala · September 2008 · page 34

Homosexuality: Nature or Nurture

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۴

گیا۔ قوم لوط کا بگاڑ صرف اخلاقی بگاڑ کے ہم معنی تھا، موجودہ زمانے میں یہ اخلاقی بُرائی فلسفیانہ جواز کے تحت کی جارہی ہے۔ اس طرح، موجودہ زمانے کی برائی، قدیم زمانے کی برائی کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ شنیع حیثیت رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ قدیم زمانے میں یہ برائی زمین کے صرف ایک محدود رقبے میں پائی جاتی تھی، آج یہ برائی پورے کُرو ارض میں پھیل گئی ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کو حدیث میں، قربِ قیامت کے آخری دور کی علامت کے طور پر، ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ويبقى شرار الناس، يتهارجون فيها تهارُج الحُمُر (صحیح مسلم، کتاب الفتن) یعنی اُس وقت صرف برے لوگ دنیا میں باقی رہیں گے جو گدھوں کی طرح بے حیائی کا فعل کریں گے۔ یہ صورت حال اپنے آپ میں اس بات کا ایک اعلان ہے کہ خدا کی پکڑ کا وقت بالکل قریب آچکا ہے۔ قومِ لوط کے زمانے میں، خدا کا عذاب ایک محدود قیامت کے طور پر آیا تھا، جس کو قرآن میں عذابِ ادنیٰ (السجدة: 21) کہا گیا ہے۔ اب یہ عذاب عالمی قیامت کے طور پر آنے والا ہے، جس کو قرآن میں عذابِ اکبر (السجدة: 21) کہا گیا تھا۔ قوم لوط نے محدود طور پر اپنے وجود کا جواز (justification) کھویا تھا، اب انسانیت نے عالمی سطح پر اپنے وجود کا جواز کھو دیا ہے۔ حالات پکار رہے ہیں کہ کاؤنٹ ڈاؤن اب اپنی آخری گنتی تک پہنچ چکا۔ قیامت کا فرشتہ اب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جاگنے والو، جاگو۔ دیکھنے والو، دیکھو۔ کان والو، سنو۔ دماغ والو، سوچو۔ آج کا دن تمھارے لیے آخری دن ہے۔ اگر آج تم اپنے اختیار سے ہوش میں نہ آئے تو کل تم کو مجبورانہ طور پر ہوش میں آنا پڑے گا۔ مگر کل ہوش میں آنا، کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ موجودہ دنیا، انسان کو نہ انعام کے طور پر ملی ہے اور نہ کسی استحقاق کے طور پر۔ یہ دنیا خدا نے بنائی ہے، اور خدا نے یہ دنیا انسان کو صرف ایک مقصد کے تحت عطا کی ہے، اور وہ یہ کہ یہاں کے حالات میں رکھ کر یہ دیکھا جائے کہ انسانوں میں سے کون ہے جو مطلوب خدائی معیار پر پورا اترا، تا کہ اس کا انتخاب (selection) کرکے اُس کو ابدی طور پر جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے اور باقی لوگوں کو رد کر کے ان کو عالمی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page