فرق کو جانیئے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۹
فرق کو جانیئے
مسٹر اے اور مسٹر بی کو کسی بات پر ایک دوسرے کے خلاف شکایت ہوگئی۔ اور پھر آپس میں بول چال بند ہوگئی۔ یہ صورت حال کئی سال تک جاری رہی۔ آخر کار مسٹر بی کو یہ احساس ہوا کہ ایسا ہونا ٹھیک نہیں۔ وہ چل کر مسٹر اے کے پاس پہنچے اور سلام کلام کے بعد اُن سے کہا کہ آئیے ہم لوگ اپنی شکایت کو ختم کردیں۔ اس معاملے میں اگر میری غلطی تھی، تو میں بلا شرط آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ جو کچھ ہوا، اِس کو آپ بھی بھلا دیں اور میں بھی بھلا دوں۔ اس طرح ہم لوگ دوبارہ اپنے تعلقات کو نارمل بنالیں۔ مسٹر بی کی بات سننے کے بعد مسٹر اے نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔ ہمارے پیغمبر نے کہا ہے کہ مومن ایک بل سے دو بار ڈسا نہیں جاتا (لا يلدغ المؤمن بحجر مرتين)۔ جو ہونا تھا، وہ ہو چکا، اب میں دوسری بار آپ کا تجربہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ مذکورہ گفتگو میں مسٹر اے نے حدیث رسول کا جو حوالہ دیا، وہ درست نہ تھا۔ یہ حدیث عام تعلقات کے بارے میں نہیں ہے، وہ ایسے عملی معاملات کے بارے میں ہے جس میں اعتماد کی بنا پر کوئی کام کیا جاتا ہے۔ مثلاً تجارتی شرکت، یا وعدہ کی بنیاد پر کوئی لین دین۔ اس طرح کے معاملات میں اگر کوئی شخص ایک بار بے بھروسہ ثابت ہو، تو اُس سے دوسری بار معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔ عام سماجی تعلقات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ عام سماجی تعلقات کے بارے میں دوسری حدیث ہے، اس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایک شخص کو کسی سے شکایت ہو جائے، تو اُس کے لیے تین دن سے زیادہ بات چیت بند کرنا جائز نہیں۔ اس طرح کی صورت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ تین دن کے اندر اپنی شکایت کو بھلا دے، اور دوبارہ نارمل انداز میں ملنا جلنا شروع کر دے۔
مذکورہ واقعہ میں مسٹر اے نے جو بات کہی، وہ فرق کو نہ جاننے کی بنا پر تھی۔ انھوں نے دو صورت حال کے فرق کو نہیں سمجھا اور غلط طور پر ایک حدیث رسول کو ایسے موقع کے لیے استعمال کیا جس سے اس کا کوئی تعلق (relevance) نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues