Al-Risala · September 2008 · page 40

لاڈ پیار کا فتنہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۰

لاڈ پیار کا فتنہ

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو خوش کرنے کے لیے ان کی ہر خواہش پوری کرتے رہتے ہیں۔ اس قسم کا لاڈ پیار ایک عظیم فتنہ ہے۔ اس لاڈ پیار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ذہن میں محبت کا ایک فرضی معیار قائم ہو جاتا ہے۔ محبت کا یہ فرضی معیار ماں باپ کے سلوک کی بنا پر بنتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ آدمی کے ذہن میں اتنا زیادہ بیٹھ جاتا ہے کہ آدمی اس پوزیشن میں نہیں رہتا کہ وہ اُس کے خلاف سوچے ۔ وہ اس فرضی معیار کو عین حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ اُس کے خلاف سوچنا، اْس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ آخر کار یہ ہوتا ہے کہ آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ صرف میرے ماں باپ مجھ سے محبت کرتے ہیں، ماں باپ کے سوا، کوئی اس دنیا میں مجھ سے محبت کرنے والا نہیں۔ محبت کا یہ معیار انسان کے لیے قاتل ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کے معاملے میں تو خوش فہمی کی حد تک اچھی رائے رکھنے والا بن جاتا ہے، اور دوسروں کے بارے میں غلط فہمی کی حد تک وہ بُرا خیال قائم کر لیتا ہے۔ وہ اپنے والدین کے معاملے میں بھی غیر حقیقت پسند ہوتا ہے، اور دوسروں کے معاملے میں بھی غیر حقیقت پسند۔ انسان اپنے بچپن کا تھوڑا سا حصہ گھر میں اپنے ماں باپ کے ساتھ گزارتا ہے۔ اس کے بعد وہ باہر کی دنیا میں داخل ہوتا ہے، ایک ایسی دنیا جہاں چیلنج ہے، مسابقت (competition) ہے، جہاں بے رحم حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کرنا ہے۔

ایسی حالت میں اپنے بچوں کے ساتھ والدین کی بہترین خیر خواہی یہ ہے کہ وہ اُن کو باہر کی دنیا کا سامنا کرنے کے لیے تیار کریں۔ وہ اپنے بچوں کو زندگی کی حقیقتوں سے باخبر کریں۔ لاڈ پیار سے بچے کا جو ذہن بنتا ہے، وہ صرف اس کے گھر کے اندر کام آتا ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی لاڈ پیار کی ساری اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اپنے گھر والوں سے محبت کرتے ہیں اور بقیہ تمام لوگوں کے لیے ان کے دل میں نفرت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page