روزہ: شکر اور تقویٰ کی تربیت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲
روزہ: شکر اور تقویٰ کی تربیت
قرآن کی سورہ نمبر 2 میں صومِ رمضان کے احکام آئے ہیں۔ اِن آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ”اے ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح وہ تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تا کہ تم متقی بنو، گنتی کے چند دن۔ پھر جو کوئی تم میں بیمار ہو، یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے۔ اور جو اِسے بہ مشقت برداشت کر سکیں، تو ایک روزے کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے، جو شخص مزید نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تم روزہ رکھو تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستے کی، اور حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں جو شخص اِس مہینے کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اُس کی گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے، وہ تمھارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اور وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ کی بڑائی کرو اس بات پر کہ اُس نے تم کو راہ بتائی اور تا کہ تم اللہ کے شکر گزار بنو“ (البقرہ: 185-183)۔ روزہ بیک وقت دو چیزوں کی تربیت ہے۔ ایک، شکر اور دوسرے، تقویٰ۔ کھانا اور پانی اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں، مگر عام حالات میں آدمی کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ روزے میں جب آدمی دن بھر ان چیزوں سے رُکا رہتا ہے اور سورج ڈوبنے کے بعد شدید بھوک، پیاس کی حالت میں وہ کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے، تو اُس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھانا اور پانی، اللہ کی کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ اس تجربے سے آدمی کے اندر اپنے رب کے شکر کا بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف، روزہ آدمی کے لیے تقویٰ کی تربیت ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی دنیا کی زندگی میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے، وہ اُن چیزوں سے رکا رہے جن سے خدا نے اِس کو روکا ہے اور وہ وہی کرے جس کے کرنے کی خدا نے اس کو اجازت دی ہے۔ روزے میں صرف رات کو کھانا اور دن کو کھانا، پینا چھوڑ دینا، گویا اللہ کو اپنے اوپر نگراں بنانے کی مشق ہے۔ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues