Al-Risala · October 2008 · page 3

روزہ: شکر اور تقویٰ کی تربیت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳

روزہ دارانہ زندگی ہے۔ رمضان کے مہینے میں وقتی طور پر چند چیزوں کو چھوڑ کر، آدمی کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ساری عمر کے لیے اُن چیزوں کو چھوڑ دے جو اُس کے رب کو ناپسند ہیں۔ قرآن، بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے اور روزہ بندے کی طرف سے اس انعام کا عملی اعتراف۔ روزے کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو اللہ کی شکر گزاری کے قابل بناتا ہے اور اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق، دنیا میں متقیانہ زندگی گزار سکے۔

روزہ رکھنے سے دل کے اندر نرمی اور شکستگی آتی ہے۔ اس طرح، روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ اُن کیفیتوں کو محسوس کر سکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔ روزے کی پر مشقت تربیت، آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اللہ کی شکر گزاری میں اس کا دل تڑپے، اور اللہ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی پیدا ہو۔ جب آدمی اس نفسیاتی حالت کو پہنچتا ہے، اُسی وقت وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر ایسا شکر ادا کرے جس میں اُس کے دل کی دھڑکنیں شامل ہوں، وہ ایسے تقویٰ کا تجربہ کرے جو اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے کردے، وہ اللہ کو ایک ایسے بڑے کی حیثیت سے پائے جس میں اس کا اپنا وجود بالکل چھوٹا ہو گیا ہو۔

رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اور قرآن کے درمیان گہرا تعلق ہے، وہ تعلق یہ ہے کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو ایک مشن دیتا ہے، دعوت الی اللہ کا مشن۔ اس دعوتی مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے صبر و تحمل کی لازمی طور پر ضرورت ہے۔ روزہ اسی صبر کی تربیت کا ذریعہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ۔ رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے (ھوشہر الصبر، البیہقی، جلد 2، صفحہ 305)۔ دعوت الی اللہ کا مشن صرف وہی لوگ کامیابی کے ساتھ چلا سکتے ہیں جو اس کو یک طرفہ صبر کے ساتھ چلانے کے لیے تیار ہوں۔ روزہ آدمی کے اندر اسی یک طرفہ صبر کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس طرح، روزے کا تربیتی مہینہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ صبر و تحمل کے ساتھ دعوت الی اللہ کے مشن کو چلائے اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page