Al-Risala · October 2008 · page 5

روزہ کی حقیقت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۵

روزہ کی حقیقت

روزہ کے لیے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے معنی ہیں، رُکنا (abstinence)۔ زندگی میں صرف اقدام کی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ رُکنا بھی زندگی میں ایک بے حد اہم پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقدام اگر خارجی توسیع کی علامت ہے تو رُکنا داخلی استحکام کی علامت۔ اور زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے بلاشبہ دونوں ہی یکساں طور پر ضروری ہیں۔

مشہور صحابی خالد بن الولید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سیف اللہ کا لقب عطا کیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے خالد بن الولید کو یہ لقب کسی اقدام یا جنگی پیش قدمی پر نہیں دیا تھا، بلکہ آپ نے سیف اللہ کا لقب اُنھیں اُس وقت دیا تھا جب کہ غزوۂ مؤتہ (8 ہجری) کے موقع پر انھوں نے یک طرفہ طور پر اپنی تلوار میان میں رکھ لی تھی اور تمام صحابہ کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر مدینہ واپس آگئے تھے۔ روزہ اس بات کا سبق ہے کہ تم چند دنوں کے لیے کھانا چھوڑ دو، تاکہ تم بقیہ دنوں میں زیادہ اچھے کھانے والے بنو۔ تم چند دنوں کے لیے اپنی سرگرمیوں کو داخلی تعمیر کے محاذ پر لگادو، تاکہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر طور پر خارجی سرگرمی کے قابل بن جاؤ۔ چند دنوں کے لیے تم اپنے بولنے پر پابندی لگالو، تاکہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر بولنے والے بن سکو۔ چند دنوں کے لیے تم اپنے مقام پر ٹھہر جاؤ، تاکہ اس کے بعد تم کامیاب پیش قدمی کے قابل بن سکو۔

روزے کا مہینہ مومن کے لیے تیاری کا مہینہ ہے۔ اپنی سوچ کے معیار کو بلند کرنا، اپنی عبادت میں تقویٰ کی اسپرٹ بڑھانا، اپنی روحانیت میں اضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ اللہ کی قربت حاصل کرنا، بھوک اور سیری کا تجربہ کرکے اپنے اندر شکر کا احساس جگانا، مادی مشغولیت کو کم کرکے آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا، خارجی سفر کوروک کر داخلی سفر کی طرف رواں ہونا، ایک مہینے کے تربیتی کورس سے گزر کر پورے ایک سال کے لیے شکر و تقویٰ کی غذا حاصل کر لینا، وغیرہ۔ یہی روزے کا مقصد ہے اور یہی روزے کی مقبولیت کا اصل معیار بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page