Al-Risala · October 2008 · page 4

روزہ: اسلام کا ایک رُکن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴

روزہ: اسلام کا ایک رُکن

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُنی الإسلام علی خمس : شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً عبده ورسوله، وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج وصوم رمضان (صحيح البخاری، کتاب الإيمان، باب : الإيمان) یعنی پانچ چیزیں اسلام کی بنیاد ہیں۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکات ادا کرنا، اور حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس حدیث میں پانچ چیزوں کو اسلام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ پہلی چیز کلمہ شہادت ہے جو اسلام کے اعتقادی رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری چیز ہے، نماز کو قائم کرنا۔ تیسری چیز ہے، اپنے مال میں سے زکات دینا۔ چوتھی چیز ہے، حج ادا کرنا۔ اور پانچویں چیز ہے، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔ اسلام کو اگر ایک عمارت سے تشبیہہ دی جائے تو اس عمارت کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔ ان میں سے ایک روزہ ہے۔ روزے کی حقیقت صبر ہے۔ روزے کا مقصد آدمی کے اندر صبر وتحمل کی استعداد پیدا کرنا ہے۔ صبر اسلامی زندگی کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص اسلام پر قائم نہیں رہ سکتا۔ نفس کی خواہشوں کے مقابلے میں صبر، شیطان کے بہکاوے کے مقابلے میں صبر، لوگوں کی ایذاؤں کے مقابلے میں صبر، جان ومال کے نقصان کے مقابلے میں صبر، ناخوش گوار تجربات کے مقابلے میں صبر، محرومی کے واقعات پر صبر، مصیبتوں کے مقابلے میں صبر، وغیرہ۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بار بار منفی تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں مثبت نفسیات کے ساتھ دنیا میں رہنا صرف اُس انسان کے لیے ممکن ہے جو صبر کے ساتھ دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہو ۔ روزہ اِسی صبر کی تربیت ہے۔ سچا روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ناخوش گوار واقعات سے غیر متاثر رہ کر زندگی گزارے، وہ منفی تجربات کے باوجود مثبت سوچ (positive thinking) پر قائم رہے۔ صبر آدمی کو حوصلہ مند بناتا ہے۔ اور روزہ اِسی قسم کی حوصلہ مندانہ زندگی کی تربیت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page