Al-Risala · January 2008 · page 43

Cultural Association Armonia

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۳

(نئی دہلی) میں 1983 سے رہتا ہوں۔ اُس وقت یہاں صرف تھوڑے مسلمان تھے۔ اب یہاں تھوڑے ہندو ہیں۔ اور یہاں کے مکانات زیادہ تر مسلمانوں کے پاس ہیں۔ یہاں ہر وقت مسلمانوں کی کاریں دوڑتی رہتی ہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ 16- بی بی سی لندن کی نمائندہ مخدویچہ عارف نے 12 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر لیا گیا۔ اُن کے سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام آباد (پاکستان) کی لال مسجد سے تھا۔ مسجد کے اندر بڑی تعداد میں مسلح لوگ داخل ہو گئے ۔ انھوں نے مسجد کے اندر گن اور گولابارود اکٹھا کر لیا۔ مسجد کے اندر سے وہ اپنی مسلح تحریک چلانے لگے۔ حکومتِ پاکستان نے اس کے خلاف آپریشن سائلنس (operation silence) کے نام سے فوجی کارروائی کی۔ اس میں کافی لوگ مارے گئے۔ آخر کار 11 جولائی 2007 کو فوج نے مسجد کو خالی کرا لیا۔ سوالات کے دوران اس سلسلے میں بتایا گیا کہ اس معاملے میں حکومتِ پاکستان کی کوئی غلطی نہیں۔ اس میں ساری غلطی مسلح دراندازوں کی ہے۔ مسجد تقویٰ کا مرکز ہے۔ مسجد کے اندر مسلح محاذ بنانا جائز نہیں۔ اس آپریشن میں جو لوگ مارے گئے، اس کی ذمے داری تمام تر مسلح دراندازوں پر ہے۔

17- اٹلی (روم) میں نوائے(Noale) کے مقام پر ایک سنٹر قائم ہے۔ اس کا نام یہ ہے:

Cultural Association Armonia

اس سنٹر کے صدر مسٹر رابرٹو (Roberto Carraro) ہیں۔ اس سنٹر کے تحت، 13 تا 16 جولائی 2007 کو ورلڈ وائڈ میں کانفرنس ہوئی۔ اس کا مقام اٹلی کا شہر وینس (Venice) تھا۔ اس کا نفرنس کی تھیم یہ تھی: From Hope to Peace صدر اسلامی مرکز کو اس کانفرنس میں خصوصیت کے ساتھ شرکت کی دعوت دی گئی۔ لیکن بعض وجوہ سے وہ اس میں شرکت نہ کر سکے۔ البتہ کا نفرنس کے موضوع سے متعلق، اسلامی مرکز کی طرف سے چھپا ہوا میٹریل ان کو بھیج دیا گیا۔ 18- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 25 جولائی 2007 کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں گورنمنٹ اسکولوں کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور’’ اسلام کی بنیادی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن جب ایک خدا کی کتاب ہے تو اس کی تفسیر میں مختلف رائے کیوں ہوں۔ جواب میں بتایا گیا کہ انٹرمینٹیشن کا اختلاف ایک فطری چیز ہے، وہ ہر جگہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بھاگوت گیتا ایک کتاب ہے، لیکن اس کی کمیٹری تلک نے الگ ڈھنگ سے لکھی ہے اور گاندھی نے الگ ڈھنگ سے۔ آخر میں لوگوں کے درمیان دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بہت دل چسپی کے ساتھ لیا۔

19- پنچوتی یوگ آشرم اینڈ نیچر کیوسینٹر کی طرف سے 28 جولائی 2007 کو لوک کلامپ ہال (لودھی روڈ، نئی دہلی)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page