Al-Risala · January 2008 · page 42

Tolerant India: Multi-Religious Pragmatic Views

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۲

11 - امریکا سے 16 ایجوکیٹرز (educators) کا ایک گروپ انڈیا آیا۔ گورنمنٹ آف انڈیا کے تعاون سے نئی دہلی کے فل برائٹ ہاؤس (ہیلی روڈ) کے ہال میں کئی سیمینار کیے گئے۔ اس میں انڈیا کے سینئر اسکالرس نے امریکی گروپ کو خطاب کیا۔ یکم جولائی 2007 کے سیشن کا عنوان یہ تھا:

Tolerant India: Multi-Religious Pragmatic Views

اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو خطاب کرنے کی دعوت دی گئی ۔ انھوں نے اس میں شرکت کی۔ اور ”ٹالرنس کی اہمیت اسلام میں‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ آخر میں سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں 16 امریکی اسکالرس کے علاوہ، مختلف مذاہب کے دوسرے تعلیم یافتہ افراد بھی شریک تھے۔ اس موقع پر انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر اور بروشر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا گیا۔

12- اسٹارنیوز (نئی دہلی) کے نمائندے نے 4 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو وقف زمین کی خریداری سے متعلق تھا۔ سوالات کے دوران تفصیل سے اس کا جواب دیا گیا اور بتایا گیا کہ اسلام میں اوقاف کے مسئلے کی نوعیت کیا ہے۔

13- ٹائمس ناؤ (Times Now) ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 5 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اس واقعے سے تھا کہ گلاسگو میں دو مسلمانوں نے کار میں بم رکھ کر ایک بلڈنگ سے ٹکرانا چاہا، لیکن ان کا بم پہلے ہی پھٹ گیا، اور بلڈنگ کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کی متشددانہ کارروائی بلاشبہ اسلام میں حرام ہے۔ اسلام میں ہتھیار کا استعمال صرف اسٹیٹ کے لیے جائز ہے، اور اسٹیٹ بھی معصوم لوگوں کے اوپر تشدد نہیں کرسکتی۔

14- نئی دہلی کے این ڈی ٹی وی (ND TV) کی ٹیم نے 5 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اس واقعے پر تھا کہ انڈیا کے دو مسلم ڈاکٹر جو کہ گلاسگو اور آسٹریلیا میں رہتے ہیں، انھوں نے گلاسگو کے ائیرپورٹ پر نا کام بم دھماکا کرنے کی کوشش کی۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ یہ کارروائی ہر اعتبار سے غیر اسلامی تھی ۔ ان لوگوں کو اس پر غصہ تھا کہ سلمان رشدی کو برطانیہ نے سر کا خطاب کیوں دیا، مگر اس بات کو لے کر بم دھماکا کرنا، بلاشبہ حرام تھا۔ ان لوگوں کو اگر اس پر ناراضگی تھی تو وہ وہاں سے اپنا جاب چھوڑ کر اپنے وطن واپس آجاتے، یا اس موضوع پر پریس میں بیان دیتے۔ اس کے سوا کچھ اور کرنا، ان کے لیے جائز نہیں تھا۔

15- بی بی سی کے نمائندے مسٹر محبوب خان نے 9 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، مسلمانان ہند کے حالات اور ان کے مسائل سے تھا۔ اس موضوع پر ہر اعتبار سے تفصیلی سوال و جواب ہوا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستانی مسلمان مظلومیت کا کیس نہیں ہیں، وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بہت بہتر حالت میں ہیں، معاشی، مذہبی اور دوسرے ہر اعتبار سے۔ میں نظام الدین ویسٹ کا لونی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page