روزہ اور انسانی ہمدردی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۱
روزہ اور انسانی ہمدردی
حضرت سلمان فارسی سے ایک طویل روایت آئی ہے۔ اس روایت میں رمضان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے یہ الفاظ آئے ہیں: هو شهر المواساة (رواه البيهقي في شعب الإيمان، باب في الصيام، فصل في فضائل شهر رمضان) یعنی رمضان کا مہینہ انسانی ہمدردی کا مہینہ ہے۔ مذکورہ حدیث رسول میں رمضان کو مواسات (philanthropy) کا مہینہ کہا گیا ہے۔ مواسات کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ساتھ مالی، یا غیر مالی مدد کا معاملہ کیا جائے۔ اس کے لیے قرآن میں ’مرحمة‘ (البلد: 17) کا لفظ آیا ہے۔ مرحمہ کے معنی بھی تقریباً وہی ہیں جو مواسات کے معنی ہیں، یعنی انسان کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا معاملہ کرنا (الرحمة على الخلق)۔ مواسات ایک اخلاقی فریضہ ہے جو ہمیشہ اور ہر حال میں اہلِ ایمان سے مطلوب ہوتا ہے، لیکن رمضان کے مہینے میں اس اخلاقی ذمے داری کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ لوگوں کے اندر انسانی ہمدردی کے احساس کو جگاتا ہے۔ روزہ گویا کہ اُس محتاجی کی حالت کو اختیاری طور پر اپنے اوپر طاری کرنا ہے جو دوسروں کے ساتھ مجبورانہ طور پر پیش آتی ہے۔ اس طرح، روزہ یہ کرتا ہے کہ وہ ایک اخلاقی ذمے داری کو روزے دار کے لیے اُس کا ایک ذاتی تجربہ بنا دیتا ہے۔ اس ذاتی تجربے کی بنا پر وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ انسانی ہمدردی کے معاملے کو سمجھتا ہے اور اُس پر عمل کرنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ روزہ ایک طرف، انسان کے اندر اللہ سے تعلق کو بڑھاتا ہے، اور دوسری طرف، وہ روزے دار کے اندر انسانی خدمت کا جذبہ مزید اضافے کے ساتھ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ رمضان کے مہینے کے بعد انسان زیادہ بہتر طور پر خدا کا عبادت گزار بن جاتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ زیادہ بہتر طور پر انسان کا خدمت گزار بھی۔ روزہ ایک اعتبار سے، عبادتِ خداوندی کا تجربہ ہے اور دوسرے اعتبار سے، خدمتِ انسانی کی تربیت کا ذریعہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues