Al-Risala · October 2008 · page 12

روزہ اور دعا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۲

روزہ اور دعا

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے متعلق ارشاد فرمایا ہے : وإذا سألک عبادی عنّى فإنّى قريب ، أجیب دعوة الداع إذا دعان فلیستجیبوا لى ولیؤمنوا بی لعلهم یرشدون (البقرة: 186)۔ یعنی جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

دعا کسی قسم کے متعین الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں، دعا دراصل دل کی پکار کا نام ہے۔ جب کسی انسان کے دل میں اعلیٰ ربانی جذبات پیدا ہوں اور وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگے، تو یہی وہ چیز ہے جس کو اسلام میں دعا کہا گیا ہے۔ اس قسم کی دعا اُس انسان کے اندر سے نکلتی ہے جو دل شکستگی کے تجربے سے دوچار ہو۔ اور روزے کی مشقت آدمی کو اسی دل شکستگی کا تجربہ کراتی ہے۔ اس طرح، آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ مطلوب نوعیت کی سچی دعا کر سکے۔ حقیقی دعا وہ ہے جس میں عجز کا تجربہ شامل ہو جائے۔

خدا، انسان کے بالکل قریب ہے۔ وہ ہر لمحہ انسان کے قریب رہتا ہے، لیکن اس قربت الہیٰ کا تجربہ صرف اُس انسان کو ہوتا ہے جو عاجزانہ روح کے ساتھ اللہ کو پکارے۔ حقیقی روزہ آدمی کو اسی عجز اور عبدیت کا تجربہ کرا تاہے۔ اس طرح، سچا روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ خدا کی قربت کا تجربہ کرے، وہ حقیقی معنوں میں خدا سے دعا کرنے والا بن جائے۔

سچی دعا وہ ہے جس کے ساتھ سچا عمل شامل ہو۔ سچے عمل سے مراد مطابق دعا عمل ہے۔ سچی دعا اور سچے عمل کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جس آدمی کو خدا کی سچی قربت ملے، وہ یقیناً ایک باعمل انسان بن جائے گا۔ اور باعمل انسان ہی وہ انسان ہے جس کی دعا اللہ تک پہنچتی ہے اور قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ جس دعا کے ساتھ مطابق دعا عمل شامل نہ ہو، وہ دعا قابلِ رد ہے، نہ کہ قابلِ قبول۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page