Al-Risala · October 2008 · page 14

موافق اصلاحِ ماحول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۴

موافق اصلاحِ ماحول

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا كان أوّلُ ليلةٍ من شهر رمضان، صُفّدتِ الشياطينُ ومَرَدةُ الجنّ، وغُلّقت أبواب النار فلم يُفتح منها بابٌ۔ وفُتحت أبواب الجنة فلم يُغلق منها باب۔ وينادى مُنادٍ: يا باغیَ الخيرِ أقبلْ، ويا باغیَ الشرِّ أقصرْ۔ و للہ عُتقاء من النار، وذلك كلّ ليلة (الترمذي، كتاب الصوم، باب: فضل شهر رمضان ) یعنی جب رمضان کے مہینے کی پہلی رات آتی ہے، تو شیاطین اور بھٹکانے والے سرکش جن قید کر دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اُس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے خیر کے طالب، آگے بڑھ اور اے شر کے طالب، رک جا۔ اور اللہ لوگوں کو جہنم سے بَری کرتاہے، اور ایسا ہر رات کو ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ایک مخصوص اسلوب میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ رمضان کا مہینہ اپنے اعمال کے اعتبار سے، روزے داروں کے لیے ایک موافق اصلاحِ ماحول پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس ماحول سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھائیں، وہ اللہ کی رحمت کے نتیجے میں جنت سے قریب ہو جائیں گے اور وہ جہنم سے دور ہو جائیں گے۔ ان کے اندر ایسی شخصیت کی تعمیر ہو گی جو اُن کے لیے رمضان کی برکتوں کے حصول کا ذریعہ بن جائے گی۔

رمضان میں زیادہ سے زیادہ، قرآن کا چرچا ہوتا ہے۔ رمضان میں، اللہ کے ذکر اور اللہ کی عبادت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں کم کھانا، کم سونا، مادی چیزوں میں کم سے کم مشغول ہونا، اِس قسم کی چیزیں رمضان میں بڑے پیمانے پر دین کے موافق ماحول پیدا کر دیتی ہیں۔ اس ماحول کا حقیقی فائدہ اُن لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اس موقع کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کریں۔ رمضان کا یہ فائدہ کسی کو اپنی استعداد کی بنیاد پر ملتا ہے، نہ کہ کسی مہینے کی پر اسرار فضیلت کی بنیاد پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page