Al-Risala · October 2008 · page 15

روزہ اور اخلاقی ڈسپلن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۵

روزہ اور اخلاقی ڈسپلن

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إذا كان يومُ صوم أحدكم فلا يرفثْ، ولا يصخب، فإن سابّه أحد أو قاتله فليقل: إني امرء صائم (البخاری، کتاب الصوم) یعنی جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو تو وہ بے ہودہ گوئی نہ کرے اور نہ شور کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے، یا اُس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں۔ اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف کھانا اور پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آدمی بُرے اخلاق کو چھوڑ دے، وہ کسی معاملے میں شور وغل کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ یہاں تک کہ اگر دوسرا شخص اُس کو اشتعال دلائے، تب بھی وہ ایسا نہ کرے کہ وہ مشتعل ہو کر خود بھی وہی کرنے لگے جو دوسرا شخص اس کے خلاف کر رہا ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ صرف ایک رسمی عمل کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کا مقصد آدمی کے اندر گہری اسپرٹ پیدا کرنا ہے، ایسی اسپرٹ جو اس کی سوچ کو بدل دے، جو اس کے مزاج میں تبدیلی پیدا کردے، جو اس کے کردار میں انقلاب برپا کردے۔ سچا روزے دار وہ ہے جس کا روزہ اس کی پوری شخصیت کو ربانی شخصیت بنادے۔

سچا روزہ انسان کو آخری حد تک سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ اس کی زندگی کے ہر پہلو میں سنجیدگی کا رنگ غالب آجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اتنا گہرا ہوتا ہے کہ دوسروں کا اشتعال انگیز رویّہ بھی اس کو سنجیدگی کے راستے سے نہیں ہٹاتا۔ وہ سماج کا ایک پرسکون ممبر (peaceful member) ہوتا ہے، وہ سماج میں لوگوں کے لیے کسی طرح کا کوئی پرابلم کھڑا کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ سچا روزے دار ایک متواضع (modest) انسان ہوتا ہے، نہ کہ سرکش انسان۔ سچا روزے دار اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کو تو چھوڑے، لیکن وہ بُرے اخلاق کو نہ چھوڑے۔ وہ کھانے پینے کے معاملے میں اپنے معمول کو بدلے، لیکن وہ اپنی زندگی کی روش میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page