حقیقتِ صوم
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰
حقیقتِ صوم
قرآن اور حدیث میں روزہ کے لیے صوم کا لفظ آیا ہے۔ صوم کے لفظی معنی ہیں_ رُکنا (abstinence)، کسی چیز سے پرہیز کرنا۔ انسان جیسی مخلوق کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ انسان کا معاملہ ففٹی پرسنٹ رکھتا ہے، اور ففٹی پرسنٹ کرنا۔ آدمی جب ایک غیر مطلوب چیز سے رُکتا ہے، اُسی وقت وہ ایک مطلوب کام کو کر پاتا ہے۔ یہی وہ ضروری استعداد ہے جس کی تربیت انسان کو روزے کے ذریعے دی جاتی ہے۔
مثلاً توحید کو لیجیے۔ انسان جب غیر اللہ کو بُڑا بنانے سے اپنے کو روکتا ہے، اٗس کے بعد ہی اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو بنا بُڑا اپنا سکے۔ انسان جب غیر پیغمبرانہ رہ نمائی کو چھوڑتا ہے، اس کے بعد ہی وہ پیغمبرانہ رہ نمائی کو قبول کرتا ہے۔ انسان جب قرآن کے سوا دوسری کتابوں کے غیر مستند ہونے کو دریافت کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ قرآن کو مستند ہدایت نامہ کی حیثیت سے اختیار کرتا ہے۔ اِسی طرح، انسان جب شیطان کی صحبت کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اپنے آپ کو فرشتوں کی صحبت کے قابل بناتا ہے۔ انسان جب اپنی خواہش کی پیروی کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ مرضیاتِ الہی کی پیروی کے قابل بنتا ہے۔ انسان جب اپنے اندر سے فخر و غرور کے مزاج کو ختم کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ تواضع (modesty) کے مزاج کا حامل بنتا ہے۔ انسان جب اپنے مال میں اسراف سے کامل پر ہیز کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ سادگی اور قناعت کے طریقے کو اپناتا ہے۔ انسان جب غیر ذمے دارانہ روش کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ سنجیدگی اور متانت کی روش کو اپنی روش بنا سکے۔
ترک و اختیار کا یہ معاملہ پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس طریقے کو اختیار کیے بغیر کوئی شخص اپنی زندگی کو اسلامی زندگی نہیں بنا سکتا۔ روزے کے ذریعے آدمی کے اندر یہی اسپرٹ پیدا کرنا مقصود ہے۔ جو آدمی ''ترک‘‘ کے اس اصول کو نہ مانے، وہ ''اختيار‘‘ کی سعادت کا تجربہ بھی نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues