Al-Risala · October 2008 · page 19

حلال سے روزہ، حرام سے افطار

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹

حلال سے روزہ، حرام سے افطار

حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور دونوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر دوسروں کی غیبت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے بارے میں معلوم ہوا، تو آپ نے فرمایا: إِنَّهُما لم يصوما، وكيف صام مَن ظَلَّ هذا اليوم يأكل لُحُومَ الناس۔ یعنی اُن دونوں نے روزہ نہیں رکھا۔ بھلا اُس کا روزہ کیسے ہوگا جو روزہ رکھے اور غیبت کر کے لوگوں کا گوشت کھائے۔ ایک اور روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: اِن هاتين صامتا عَمَّا أحَلَّ الله لهما وأفطرتا على ما حرَّم الله عليهما (مجمع الزوائد، كتاب الصيام، باب الغيبة للصائم ) یعنی انھوں نے اٗس چیز سے روزہ رکھا جو اللہ نے اُن کے لیے حلال کیا تھا، اور پھر انھوں نے اٗس چیز سے افطار کر لیا جو اللہ نے اُن کے لیے حرام کیا تھا۔

اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے میں صرف یہ حرام نہیں ہے کہ آدمی دن کے اوقات میں کھانا کھا لے اور پانی پی لے، اس کے سوا بھی کچھ چیزیں حرام ہیں اور وہ روزے کو باطل کرنے والی ہیں۔ مثلاً دوسروں کی برائی بیان کرنا۔ جو آدمی روزہ رکھے اور کھانے پینے کی چیزوں سے بچا رہے، لیکن اٗسی کے ساتھ وہ دوسروں کی برائی بیان کرے، تو اٗس کا روزہ مطلوب روزہ نہ ہوگا، اٗس کا روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کے ہم معنی ہوگا۔

روزہ توڑنے کی ایک شکل یہ ہے کہ آدمی روزہ رکھتے ہوئے جان بوجھ کر مادی ممنوعات پر عمل کرنے کا ارتکاب کرے، مثلاً وہ کھانا کھالے، یا پانی پی لے۔ اِسی طرح، روحانی اور اخلاقی اعتبار سے بھی کچھ ممنوعات ہیں، مثلاً دوسروں کی بُرائی اور غیبت کرنا۔ اگر آدمی روزہ رکھ کر روحانی اور اخلاقی ممنوعات کا ارتکاب کرے، تو ایسے ارتکاب سے بھی اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، بظاہر روزہ رکھ کر بھی وہ روزے کے ثواب سے محروم رہے گا۔ روزہ غذائی پرہیزگاری کا نام بھی ہے، اور اخلاقی پرہیزگاری کا نام بھی۔ روزے میں اخلاقی پرہیز بھی اُسی طرح ضروری ہے، جس طرح غذائی پرہیز۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page