قولِ زور، عملِ زور
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۸
قولِ زور، عملِ زور
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن لَم يدَعِ قولَ الزّورِ والعملَ به، فليسَ للهِ حاجةٌ في أن يَدَعَ طعامَه وشرابَه (صحيح البخاری، كتاب الصوم، باب: من لم يدع قول الزور والعمل به) یعنی جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑ دے۔ روزہ بظاہر مخصوص اوقات میں کھانا اور پینا چھوڑ دینے کا نام ہے، مگر کھانے اور پینے کا یہ ترک ایک علامتی ترک (symbolic abstinence) ہے۔ روزہ کے مہینے میں چند چیزوں کو چھوڑ کر روزے دار اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے تیار کرتا ہے کہ وہ خدا کی منع کی ہوئی تمام چیزوں کو چھوڑ دے۔ گویا کہ ترک طعام اگر جسمانی روزہ ہے تو ترک منہیات، روحانی روزہ۔ جس آدمی کی زندگی میں ترک طعام ہو، لیکن اس کی زندگی میں ترک منہیات نہ ہو، تو اس کا روزہ خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ پانے والا نہیں۔ دین میں دو قسم کی تعلیمات شامل ہیں۔ ایک، وہ جن میں کسی چیز کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور دوسرے، وہ جن میں کسی چیز کے چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ روزہ ترک منہیات والی تعلیمات کے لیے تربیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزہ کے مہینے میں وقتی طور پر کچھ چیزوں کے ترک کا حکم دے کر یہ سبق دیا جاتا ہے کہ اسی طرح پورے سال دوسری تمام منہیات کو ترک کر دینا ہے، اس کے بغیر دین کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ ان منہیات (prohibitions) میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو حدیث میں، جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا کہا گیا ہے۔ جھوٹ بولنا یہ ہے کہ آدمی کسی چیز کے بارے میں خلاف واقعہ بیان دے۔ مثلاً وہ رات کے وقت کو دن کا وقت بتائے۔ اسی طرح، جھوٹ پر عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی ایک غلط کام کرے اور وہ اس کو خلاف واقعہ طور پر صحیح کا نام دے۔ وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیے ایک کام کرے اور لوگوں کو بتائے کہ میں یہ کام خالص حق کے لیے کر رہا ہوں۔ جولوگ اس طرح کے جھوٹ میں مبتلا ہوں، اُن کا روزہ خدا کے یہاں قابلِ رد قرار پائے گا، نہ کہ قابلِ قبول۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues