Al-Risala · October 2008 · page 29

روزہ کو چھوڑنا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹

روزہ کو چھوڑنا

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من أفطر يوماً من رمضان من غير رُخصة ولا مرض، لم يقض عنه صوم الدهر كله وإن صامه (الترمذي، كتاب الصوم، باب الإفطار متعمداً) یعنی جو شخص رمضان کے دنوں میں کسی دن روزہ ترک کردے، جب کہ اُس کے لیے کوئی شرعی عذر اور بیماری نہ ہو، تو اس کے بعد خواہ وہ ساری عمر روزے رکھے، وہ اس کے لیے رمضان میں چھوڑے ہوئے روزے کا بدل نہیں ہوسکتا۔ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی اہمیت یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ اُس کا حکم دیا ہے۔ ایسی حالت میں رمضان کے کسی ایک روزے کو بھی قصداً چھوڑنا اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد آدمی اگر ساری عمر روزہ رکھے، تو وہ اس کے اپنے فیصلے کے تحت ہوگا، نہ کہ براہِ راست حکم خداوندی کی تعمیل میں۔ اور بلاشبہہ کوئی بھی دوسرا عمل، خدا کے حکم کی قصد اًخلاف ورزی کی تلافی نہیں بن سکتا۔

اس دنیا میں پانی کا جو ذخیرہ ہے، اس کی ایک ایک بوند کا مالک خدا ہے۔ اس دنیا میں مختلف قسم کی جو غذائیں ہیں، ان کا غیر مشترک مالک بھی صرف ایک خدا ہے۔ اس قسم کی تمام چیزیں جو دنیا میں موجود ہیں، ان کو پیدا کرنے والا بھی خدا ہے اور یہ بھی خداوند ذوالجلال ہی ہے جو یہ تمام چیزیں انسان کو عطا کرتا ہے۔

ایسی حالت میں جب خدا خود یہ حکم دے کہ فلاں مہینے کے دنوں میں تم میرا پانی اور میری پیدا کی ہوئی غذائیں استعمال نہیں کروگے، تو یہ انسان کی انسانیت کے سرتا سر خلاف ہے کہ وہ رزق کے خالق و مالک کی ممانعت کے باوجو د اس کے دیے ہوئے رزق کا ایک دانہ بھی استعمال کرے۔ حکم خداوندی کی ایسی خلاف ورزی کے بعد انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں بے جگہ بنا لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ انسان کی سطح سے گر کر غیر انسان کی سطح پر آ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page