Al-Risala · October 2008 · page 31

روزہ اور قیام لیل

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۱

روزہ اور قیام لیل

حدیث میں بتایا گیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں قیام لیل ایک اہم عبادت ہے (من قام رمضان إيماناً و احتساباً غفر له ما تقدّم من ذنبه، صحيح البخاري، كتاب الصوم) قیام لیل سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی ساری رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتا رہے۔ قیام لیل کا مطلب رات کے محدود اوقات میں نماز پڑھنا ہے، نہ کہ ساری رات جاگ کر نماز پڑھنا۔ قیام لیل کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی عشا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سوجائے، پھر اپنی فطری نیند پوری کرنے کے بعد رات کے آخری حصے میں وہ فجر سے پہلے اٹھے۔ اُس وقت کے پرسکون لمحے میں وہ وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو جائے اور حسب توفیق، کچھ رکعتیں قرآن کی لمبی قرأت کے ساتھ پڑھے۔ اور پھر الحاح اور دعا پر اس نماز کو ختم کرے ۔ رات کی یہی وہ نماز ہے جس کو تہجد (الإسراء: (79) یا قیام لیل کہا گیا ہے۔

اہل ایمان چوبیس گھنٹے کے دوران روزانہ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے ہیں۔ یہ نماز اجتماعی نماز (congregational prayer) ہے۔ اس کے اپنے خصوصی فائدے ہیں۔ اسی لیے اُس کو شریعت میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہ اجتماعی نماز بیک وقت عبادت بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ امت میں اتحاد قائم رکھنے کا ایک ذریعہ بھی۔

تاہم مومن فطری طور پر اپنے اندر ایک اور نماز کی طلب پاتا ہے، یہ انفرادی نماز ہے، یعنی وہ نماز جب کہ مومن اپنی تنہائیوں میں اللہ کے سامنے اپنی عبودیت کا اظہار کرے، ایک ایسا لمحہ جہاں صرف وہ ہواور اس کا رب ہو، جب کہ اُس پر وہ تجربہ گزرے جس کو حدیث میں ”یناجی ربہ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی اپنے رب کے ساتھ سرگوشی۔ رات کے پچھلے پہر کے پرسکون لمحے میں اس قسم کی انفرادی عبادت کرنا، یہی تہجد اور قیام لیل ہے۔ تہجد کی یہ نماز رمضان کے مہینے میں خصوصی طور پر مطلوب ہے اور سال کی بقیہ راتوں میں عمومی طور پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page