اسپرٹ، یا ٹیکنکل مسائل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰
اسپرٹ، یا ٹیکنکل مسائل
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا سمع النداء أحدكم والإناءُ على يده، فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه (مسند احمد، جلد 5، صفحه 431) یعنی تم میں سے جب کوئی (روزے دار) فجر کی اذان کی آواز سنے اور کھانے کا برتن اُس کے ہاتھ میں ہو، تو وہ اُس وقت تک اس کو اپنے منہ سے نہ ہٹائے، جب تک کہ وہ اپنی حاجت پوری نہ کر لے۔ اس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص سحری کر رہا ہے۔ ابھی وہ اپنی سحری پوری نہیں کر سکا تھا کہ اس کو فجر کی اذان کی آواز سنائی دی۔ اگر کبھی ایسا ہو جائے تو وہ ایسا نہ کرے کہ وہ فوراً کھانا یا پینا چھوڑ دے، بلکہ اس کو چاہیے کہ وہ اپنی سحری کو پورا کرلے۔ اور پھر فجر کی نماز کے لیے مسجد میں جائے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کسی ٹیکنکل (technical) عمل کا نام نہیں ہے۔ روزے میں ٹیکنکل مسائل کی حیثیت ثانوی (secondary) ہے۔ روزے میں اصل اہمیت اس کی روح یا اس کی اسپرٹ کی ہے۔ جس عمل میں روح پر زور دیا جائے، اُس میں ٹیکنکل مسائل کا درجہ وہی ہو جائے گا جس کی ایک علامتی مثال مذکورہ حدیث میں نظر آتی ہے۔
روزہ جیسے زندہ عمل میں ٹیکنکل مسائل پر زور دینا، ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ اس کی اسپرٹ کا پہلو مجروح ہو جائے۔ اسی معاملے کو واضح کرنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بات ارشاد فرمائی۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمھارا سارا دھیان روزے کی اسپرٹ پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے ٹیکنکل مسائل پر۔ اسلامی عبادات میں سب سے زیادہ اُس کی اسپرٹ کی اہمیت ہوتی ہے، نہ کہ اس کے ٹیکنکل مسائل کی۔ روزہ اگر ٹیکنکل نوعیت کا کوئی عمل ہوتا، تو اذان کی آواز سنتے ہی کھانے پینے کو فوراً چھوڑ دینا لازم ہو جاتا۔ مگر اس معاملے میں رخصت دینے سے معلوم ہوا کہ عبادت میں اس کی روح، اس کا اصل حصہ ہے اور اس کا فارم اس کا اضافی حصہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues