روزہ اور اعتکاف
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
روزہ اور اعتکاف
رمضان کے مہینے میں، عام طور پر آخری عشرہ میں، مسجد کے اندر اعتکاف کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اعتکاف کرتے ہیں، وہ ان دنوں میں دوسرے تعلقات کو منقطع کر کے مسجد میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ہیں۔ناگزیر انسانی ضرورت کے سوا، وہ کسی اور مقصد سے باہر نہیں نکلتے۔ مسجد میں خلوت نشیں ہو کر، وہ اپنا زیادہ وقت عبادت اور ذکر اور دعا اور تلاوتِ قرآن میں گزارتے ہیں۔
اعتکاف کا لفظی مطلب ــــ خلوت نشینی (seclusion) ہے۔ یہ اعتکاف کس لیے کیا جاتا ہے۔ حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے بارے میں آیا ہے کہ: ہو يعتكف الذنوب (مشكاة المصابيح، رقم : 2108) یعنی وہ گناہوں سے اعتکاف کرتا ہے۔ گناہوں سے اعتکاف کرنے کا مطلب کیا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے محدث ناصر الدین الالبانی (وفات: 1999) نے لکھا ہے کہ: أي يحتبس عن الذنوب (مشكاة، جلد 1، صفحہ (650) یعنی وہ اپنے آپ کو گناہوں سے روک لیتا ہے۔ اعتکاف کا مطلب سادہ طور پر صرف گناہ سے رکنا نہیں ہے، بلکہ روزے کی اسپرٹ کو بھر پور طور پر اپنانے کے لیے اپنے آپ کو خلوت نشیں بنا لینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اعتکاف کا مطلب ہےـــــ اپنے آپ کو مواقع گناہ سے ہٹا کر پوری طرح عملِ خیر میں مشغول کر لینا۔ اس پر غور کرتے ہوئے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اعتکاف کا اصل مقصد اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا ہے۔ گناہ خود بھی ایک قسم کا ڈسٹریکشن ہے۔ فطرت کی صراطِ مستقیم سے ہٹنا، آدمی کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اعتکاف ایک خصوصی تدبیر ہے جس کے ذریعہ آدمی چند دنوں کے لیے مجبوری کی حالت پیدا کر کے اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچاتا ہے، تاکہ وہ بعد کے دنوں میں اختیارانہ طور پر اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچا کر صراط مستقیم پر قائم رہنے والا انسان بنا سکے۔ ترک اختیار کا یہ معاملہ پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس طریقے کو اختیار کیے بغیر، کوئی شخص اپنی زندگی کو اسلامی زندگی نہیں بنا سکتا۔ روزے کے ذریعے آدمی کے اندر یہی اسپرٹ پیدا کرنا مقصود ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues