روزہ اور اعتکاف
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۷
اعتکاف بظاہر اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے خاص کرنے کا نام ہے۔ لیکن اسلام میں عبادت اور رہبانیت (Monasticism) میں فرق کیا گیا ہے۔ اسلام کے مطابق، رہبانیت ایک قسم کا غلو ہے اور غلو اسلام میں جائز نہیں (لا غلو فی الإسلام)۔ ایک صحابی رسول کا حسب ذیل واقعہ اس معاملے میں شریعت کی صحیح روح کو بتاتا ہے:
طبرانی اور بیہقی نے حضرت عبداللہ بن عباس کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ روایت کے مطابق، حضرت عبداللہ بن عباس، مدینہ کی مسجد نبوی میں اعتکاف کی حالت میں تھے۔ اُن کے پاس ایک آدمی آیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔ عبداللہ بن عباس نے کہا: تم مجھ کو افسردہ اور غمگین دکھائی دیتے ہو۔ اُس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول کے چچا زاد بھائی، میرے اوپر فلاں شخص کا حق ہے، اور اس صاحب قبر (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت کی قسم، میں اُس کی ادائیگی پر قادر نہیں۔ عبداللہ بن عباس نے کہا: کیا میں تمھارے بارے میں اُس آدمی سے بات کروں (أفلا أكلمه فیک)۔ اٌس شخص نے کہا: ہاں، اگر آپ پسند فرمائیں۔ اس کے بعد عبداللہ بن عباس نے اپنے جوتے پہنے اور مسجد سے باہر نکل کر روانہ ہو گئے۔ اُس آدمی نے کہا: شاید آپ بھول گئے کہ آپ اس وقت حالت اعتکاف میں ہیں۔ عبداللہ بن عباس نے کہا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے (اور یہ کہتے ہوئے عبداللہ بن عباس کی آنکھوں میں آنسو آگئے) کہ: مَن مشى فى حاجة أخيه وبلغ فيها، كان خيراً له من اعتکاف عشر سنين (الترغيب، والترهيب، كتاب الصوم، جلد 2 ، صفحہ 96) یعنی جو شخص اپنے بھائی کی حاجت براری کے لیے چلا اور اُس نے اُس کے لیے کوشش کی، تو یہ اُس کے لیے دس سال کے اعتکاف سے بہتر ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس کے اس واقعے سے اسلامی عبادت اور اعتکاف کی روح معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بوقتِ ضرورت عبادت کے فارم میں ایڈجسٹ مینٹ کیا جائے گا، لیکن عبادت کی روح کو ہر حال میں باقی رکھا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues