مسائل رمضان
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۵
مسائل رمضان
مسائل رمضان سے مراد، رمضان یا روزے کے فقہی یا قانونی مسائل ہیں۔ ان مسائل کا چرچا ہر مسجد اور ہر مدرسے میں ہوتا رہے، اس بنا پر لوگ عام طور پر روزہ اور رمضان کے فقہی مسائل سے واقف ہوتے ہیں۔ اسی واقفیت کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ ہر سال رمضان کے مہینے میں آسانی کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں اور اُس کے ضروری احکام کی پابندی کرتے ہیں۔ اس لیے ان مسائل کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ یہاں اس کے کچھ بنیادی پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ روزے کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب پر ختم ہو جاتا ہے۔ روزہ ہر بالغ عورت اور مرد پر فرض ہے، الا یہ کہ اُس کو کوئی ایسا عذر لاحق ہو جس کو شریعت میں معتبر مانا گیا ہو۔ روزے کا آغاز نیت سے ہوتا ہے۔ یہ نیت آدمی کو طلوع فجر سے پہلے، یا سحری کھانے کے وقت کرنا چاہیے۔ رمضان کے مہینے میں اگر کوئی شخص سفر کرے، یا بیمار ہو جائے تو وہ رخصت کے طور پر اُن دنوں میں روزہ ترک کر سکتا ہے۔ لیکن اُس کو رمضان کے بعد چھوٹے ہوئے دنوں کے بقدر روزہ رکھ کر اس کی تکمیل کرنی ہوگی۔ البتہ اگر کوئی شخص بڑھاپے، یا کسی طبی سبب سے مستقل طور پر معذور ہو جائے اور روزہ رکھنا اُس کے لیے ممکن نہ رہے تو وہ روزہ ترک کر دے اور کفارہ کے طور پر مساکین کو کھانا کھلا دے، یعنی ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کے دو وقت کے کھانے کا انتظام کرنا۔
شریعت، آدمی کے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد نہیں کرتی۔ روزے میں دن کے اوقات میں کھانے پینے اور دیگر ممنوعات کے باوجود، رات کے اوقات میں اُس کی اجازت، سحری اور افطار کا وقت جاننے کے لیے کیلنڈر کا پابند کرنے کے بجائے، عام مشاہدے کو بنیاد قرار دینا، اسی قسم کی چیزیں ہیں۔ جزئی تفصیلات میں بندوں کو گنجائش دیتے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے عمومی حدیں واضح فرمادی ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان مقرر حدوں کا پوری طرح پابند ہے اور تفصیلی جزئیات میں وہ اُس روش کو اختیار کرے جو تقویٰ کی اسپرٹ کے مطابق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues