Al-Risala · October 2008 · page 46

انعام کی رات

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۶

انعام کی رات

حضرت ابو ہریرہ کی ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: یُغفر لهم في اخر ليلة من رمضان۔ قيل: يا رسول الله، أهي ليلة القدر۔ قال: لا، ولكن العامل إنّما يُوفى أجره إذا قضى عمله (مسند احمد، جلد 2، صفحه 292) یعنی رمضان کی آخری رات میں روزے دار بندوں اور بندیوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا اس رات سے مراد شبِ قدر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ عمل کرنے والا جب عمل کرتا ہے، تو عمل کے پورا ہونے کے بعد اُس کو اُس کا پورا اجر دے دیا جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امتِ محمدی کے وہ افراد جو روزے کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھیں، مہینے کی آخری رات میں ان کے عمل کا پورا اجر ان کے ریکارڈ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے کی اس آخری رات کو دوسری حدیث میں 'ليلة الجائزة (البيهقی) کہا گیا ہے، یعنی انعام کی رات۔ ہر نیک عمل پر اللہ اپنے بندوں کو انعام دیتا ہے۔ رمضان کی عبادت کی اہمیت کی بنا پر اس حدیث میں اس کے انعام کا ذکر خصوصی انداز میں کیا گیا۔

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہو جاتا ہے، تو عید سے پہلے کی رات کو لوگ غفلت میں یا تماشے میں گزارتے ہیں۔ وہ اس میں شاپنگ کی دھوم مچاتے ہیں۔ یہ حدیث اس قسم کی غفلت کے لیے ایک انتباہ (warning) کی حیثیت رکھتی ہے۔ انعام کی اس رات کا بہتر استعمال یہ ہے کہ اُس رات کو زیادہ سے زیادہ دعا اور عبادت میں گزارا جائے، اور پورے مہینے کا محاسبہ کیا جائے، اور نئے سال کی دوبارہ منصوبہ بندی کی جائے ۔ اس رات کو مسرفانہ شاپنگ جیسی چیزوں میں گزارنا، اس بابرکت موقع کا ضیاع بھی ہے اور اُس کی ناقدری بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جولوگ رمضان کے مہینے کو اُس کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ گزاریں، وہ کبھی اس کا تحمل نہیں کر سکتے کہ رمضان کی آخری رات کو وہ غفلت اور تماشے میں گزار دیں۔ ان کے لیے مہینے کی آخری رات دعا اور عبادت کی رات ہوگی، نہ کہ غفلت کی رات۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page