Al-Risala · October 2008 · page 47

عید الفطر کا دن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۷

عید الفطر کا دن

رمضان اور روزہ اور عید الفطر کے بارے میں حضرت انس بن مالک سے ایک طویل روایت نقل ہوئی ہے۔ اُس روایت کا ایک حصہ یہ ہے:

”...... فإذا كان يوم عيدهم، يعني يومِ فطرهم، باهى بهم ملائكته، فقال: ملائكتي، ما جزاء أجير وفّى عمله. قالوا: ربّنا جزائه أن يوفّى أجره. قال: ملائكتي، عبيدي وإمائي قضوا فريضتي عليهم، ثمّ خرجوا یعُجُّون إلى الدعاء، وعزّتي وجلالي وكرمي وعُلُوّي وارتفاع مكاني لأجيبَنّهم. فيقول: ارجعوا فقد غفرتُ لكم، وبدّلت سيّئاتكم حسنات. قال: فيرجعون مغفوراً لهم (رواه البيهقي في شعب الإيمان، باب الصيام، فصل في ليلة العيد ويومهما)۔

یعنی جب عید کا دن آتا ہے، یعنی عید الفطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے روزے دار بندوں اور بندیوں پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو، اُس کی جزا کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اِس فرض کو ادا کر دیا جو اُن پر عائد تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے عُلُو شان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّات کو حسنات میں تبدیل کر دیا۔ پس وہ لوگ اس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔ رمضان کے خاتمے کے بعد عید الفطر کا دن ایک عظیم خوش خبری بن کر آتا ہے، ابدی انعام کی خوش خبری۔ یہ ابدی انعام اللہ کے اُن بندوں اور بندیوں کے لیے ہے جو رمضان کے مہینے میں مطلوب روزے کے ذریعے اپنے لیے اِس کا استحقاق ثابت کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page