Al-Risala · November 2008 · page 6

ڈر والے اور بے ڈر والے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۶

ڈر والے اور بے ڈر والے

قرآن کی سورہ نمبر 84 میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں جن لوگوں کو اُن کے عملِ صالح کی بنیاد پر جنت میں داخلہ ملے گا، ان کا اعمال نامہ ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ اس کو پا کر خدا کا شکر ادا کریں گے اور خوشی خوشی اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹیں گے (الإنشقاق: 7-9)۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے مطابق، اپنے گھر والوں کے درمیان خدا سے ڈر کر رہتے تھے (الطّور: 26)۔ جو شخص دنیا میں خدا کی پکڑ سے ڈرا، آخرت میں وہ ڈر والی زندگی سے محفوظ رہے گا اور اپنے صالح اہل وعیال کے ساتھ جنت کی بے خوف زندگی گزارے گا۔ اس کے برعکس حال اُن لوگوں کا ہوگا جو دنیا میں خدا سے بے خوف تھے اور آخرت کی پکڑ سے بے پروا ہو کر اپنے اہل وعیال کے درمیان مگن رہتے تھے (المطفّفين : 31)۔ جن لوگوں کا دنیا میں یہ حال تھا، ان کو ان کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ خدا کے فرشتے ان کو پکڑ کر جہنم میں ڈال دیں گے، جہاں انھیں دوبارہ خوشی حاصل نہ ہوگی۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص اگر دنیا میں صالح زندگی اختیار کرے اور اپنے آپ کو جنت کے اعلیٰ درجے کا مستحق بنائے، تو اس کی صالح ذریت کو آپ گریڈ (upgrade) کر کے یک جا طور پر جنت کے اعلیٰ درجات میں داخل کر دیا جائے گا (الطّور: 21)۔

دنیا میں زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک، یہ کہ اپنے گھر والوں کے درمیان آخرت کا فکر مند بن کر رہنا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میں جنت کی بے خوف دنیا میں داخلے کا موقع ملے گا۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنے گھر والوں کے درمیان اس طرح رہیں کہ ان کو آخرت کی کوئی پروا نہ ہو، وہ خدا کی پکڑ سے بے خوف ہو کر اپنے گھر والوں کے درمیان خوش و خرم زندگی گزاریں، وہ آخرت کی دنیا میں دوبارہ خوشیوں کی زندگی سے محروم رہیں گے۔ جو شخص دنیا میں ڈرا، اس کو آخرت میں دوبارہ ڈرایا نہیں جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page