اشجارِ ممنوعہ کا جنگل
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۷
اشجارِ ممنوعہ کا جنگل
خدا نے جب انسان اول آدم کو پیدا کیا تو اُن کو ابتداء ایک جنت (باغ) میں بسایا گیا۔ اُن سے کہا گیا کہ یہاں تم آزادی کے ساتھ رہو لیکن تم فلاں درخت کے پاس نہ جانا اور اس کا پھل نہ کھانا (البقرہ: 35)۔ یہ آدم کی ابتدائی قیام گاہ کا شجر ممنوعہ تھا، مگر قرآن کے بیان کے مطابق، آدم صبر نہ کر سکے اور انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا (طٰہٰ: 121)۔ اس کے نتیجے میں وہ جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر بھیج دیے گئے۔
تاہم جہاں تک آزمائش کا تعلق ہے، وہ بدستور باقی ہے، البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ ابتدائی جنت میں ایک شجر ممنوعہ تھا، جب کہ موجودہ زمین پر اشجار ممنوعہ کا ایک جنگل اگا ہوا ہے۔ جنت کی طرف انسان کی دوبارہ واپسی اسی شرط پر ہوگی کہ وہ ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھائے۔ انسان کو اس شرط پر پورا اترنے کے لیے بہت زیادہ محتاط (cautious) بننا ضروری ہے۔ کیوں کہ پہلے اگر ایک درخت سے دور رہنا تھا، تو اب درختوں کے جنگل سے دور رہنا اس کے لیے ضروری ہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کو جن حرام چیزوں سے بچنا ہے، ان کی ایک فہرست وہ ہے جو باقاعدہ نام کے ساتھ قرآن اور حدیث میں دے دی گئی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ایسی چیزوں کی فہرست بہت لمبی ہوگئی ہے جو انسان کو بھٹکانے والی اور اس کو صراط مستقیم سے دور کر دینے والی ہیں۔ ان ممنوعہ چیزوں کی کوئی کامل فہرست نہیں دی جاسکتی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ نہایت ہوش مندی کے ساتھ دنیا میں رہے اور جب بھی اس کے سامنے کوئی ایسی چیز آئے جو اس کے لیے صراط مستقیم سے انحراف (distraction) کا ذریعہ بننے والی ہو، تو وہ اس کو پہچان لے اور اس سے کامل طور پر دور رہے۔
اس دنیا میں ہر وہ چیز شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے جو آدمی کو خدا کی یاد سے ہٹائے اور آخرت کی پکڑ سے اس کو غافل کر دے۔ جو آدمی اپنا محاسب آپ بنے، وہی ان اشجار ممنوعہ سے بچ سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues