خدائی قانون
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۸
خدائی قانون
قرآن کی سورہ نمبر 17 میں ایک خدائی قانون کا ذکر ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:’’اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اُس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اُس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں۔ تب اُن پر بات ثابت ہو جاتی ہے، پھر ہم اُس بستی کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں‘‘(الإسراء: 16)۔
قرآن کی اس آیت میں فسق‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فسق کے لفظی معنی — انحراف (deviation) کے ہیں، یعنی فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ جانا۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے اوپر خدا کا عذاب کب آتا ہے۔ اُس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ سماج کے خوش حال افراد بے خوفی کا شکار ہو کر، خدا کے مقرر راستے سے ہٹ جاتے ہیں، وہ خدا کے نافرمان بن جاتے ہیں۔ اس انحراف کا آغاز سماج کے خوش حال طبقے سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ عام لوگوں تک پھیل جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو وہ انسانی گروہ اس بات کا جواز (justification) (justification)کھو دیتا ہے کہ اُس کو اس زمین پر مزید زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔ چناں چہ پیغمبروں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اُس کو تباہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ اصول موجودہ زمانے میں زیادہ بڑے پیمانے پر قابل انطباق ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان کے انحراف نے ایک مکمل تہذیب کا درجہ اختیار کر لیا ہے۔ اب انسان نے اپنے منحر فانہ طرز حیات کے لیے پورا ایک فلسفہ وضع کر لیا ہے۔ اس طرح ، انسان کا فسق اب اپنے آخری اور عالمی درجے تک پہنچ چکا ہے۔ بظاہر اب انسان نے اپنا یہ حق کھو دیا ہے کہ وہ موجودہ زمین پر مزید عرصے کے لیے باقی رہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جو تد میر (destruction) علاقائی سطح پر ہوتی تھی ، اب وہ عالمی سطح پر ہونے والی ہے، یعنی وہی وقت جس کو قرآن میں قیامت کہا گیا ہے۔ قیامت کا مطلب ہے— امتحانی دورِ حیات کا خاتمہ اور اُس دوسرے دورِ حیات کا آغاز جب کہ ہر عورت اور مرد کو اس کے عمل کے مطابق ، سزا یا انعام دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues