Al-Risala · November 2008 · page 18

موت ایک یاد دہانی

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸

موت ایک یاد دہانی

ایک دن میں اپنے معاصرین (contemporaries) کے بارے میں سوچنے لگا۔ وہ افراد جو میرے زمانے میں پیدا ہوئے، جن کے ساتھ میں نے زندگی کا سفر طے کیا، جن کے ساتھ میں زمین پر چلتا پھرتا رہا۔ مسٹر اے کو میں نے زندہ حالت میں دیکھا تھا، مگر آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ مسٹر بی، مسٹر سی، مسٹر ڈی، مسٹر ای، سب کا یہی انجام ہو چکا ہے۔ اس طرح میں اپنے جاننے والوں میں سے ایک ایک شخص کو یاد کرتا رہا۔ مجھے یاد آیا کہ یہ سارے لوگ اب وفات پا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ پچھلے دنوں مجھے خبر ملی کہ مسٹر وائی کی بھی وفات ہوگئی۔ میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ میری زبان سے نکلا کہ ــــ میری باری بہت قریب آگئی:

The countdown has reached the last but one number. پھر میں نے سوچا کہ یہ معاملہ صرف میرا ذاتی معاملہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہی معاملہ ہر عورت اور مرد کا معاملہ ہے۔ ہر ایک روزانہ دیکھ رہا ہے کہ اس کے آس پاس کے لوگ مرتے جا رہے ہیں۔ میڈیا کے ذریعہ ہر ایک، دور دور کے لوگوں کے بارے میں بھی اسی طرح موت کی خبریں سنتا رہتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ کوئی شخص یہی بات خود اپنے بارے میں نہیں سوچتا۔ کوئی عورت یا مرد سنجیدگی کے ساتھ یہ غور نہیں کرتا کہ اسی طرح میں خود بھی بہت جلد مرنے والا ہوں۔ وہ موت سے پہلے کی زندگی کے مسائل کے بارے میں تو ہر وقت سوچتا ہے، لیکن موت کے بعد کے مسائل کے بارے میں کوئی غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ جاننے کے باوجود نہ جاننے کے اس عجیب ظاہر ہ کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنے ڈی این اے (DNA) سے کنٹرول ہوتا ہے۔ آدمی اپنا ہر چھوٹا یا بڑا کام ڈی این اے کی رہ نمائی میں کرتا ہے۔ مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ زندگی کے بارے میں تو ہر ایک کے ڈی این اے میں سب کچھ تفصیل کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مگر ایک بات کسی کے ڈی این اے میں سرے سے درج نہیں۔ اور وہ موت (death) کا معاملہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page