موت ایک یاد دہانی
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے تمام معاملات تو ڈی این اے کے کوڈ میں درج ہیں۔ اُنھیں کی مسلسل طور پر ڈی کوڈنگ (de-coding) ہوتی رہتی ہے، مگر موت کا تعلق ڈی این اے سے نہیں۔ ہر ایک کی موت براہِ راست طور پر خالق کے حکم سے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک کے لیے موت کا وقت الگ الگ ہے۔ لوگوں کی موت کا کوئی یکساں وقت نہیں۔
انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ موت کے بارے میں خودشعوری (self-consciousness) کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرے ۔ وہ اس معاملے میں اپنے ڈی این اے سے باہر آکر سوچے ۔ ایسا کرنے کی صورت ہی میں آدمی موت کی حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرے گا۔ ایسا کرنے کی صورت ہی میں یہ ممکن ہوگا کہ وہ موت کے سنگین معاملے کو سمجھے۔ وہ موت سے پہلے کے دورِ حیات میں موت کے بعد کے دورِ حیات کی تیاری کرے ۔
انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ ڈی این اے اس ابدیت (eternity) کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر خالق نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کی طویل زندگی کو دو دوروں میں بانٹ دیا ہے ۔ موت سے پہلے کا دورِ حیات، اور موت کے بعد کا دورِ حیات ۔ اس کری ایشن پلان کے مطابق، موت سے پہلے کا مختصر دورِ حیات امتحان (test) کے لیے ہے۔ اور موت کے بعد کا طویل تر دورِ حیات ٹسٹ پیریڈ کے ریکارڈ کے مطابق، اپنے عمل کا ابدی انجام پانے کے لیے۔
اس وقت تمام لوگ وقتی خوشی (right here, right now) کے تصور کے تحت جی رہے ہیں ۔ وہ حال رخی (present-oriented) زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن اگر انھیں حقیقتِ واقعہ کا شعور ہوجائے تو ان کی زندگی کا نقشہ بالکل بدل جائے ۔ اب آنے والا دن ان کا سب سے بڑا کنسَرن بن جائے ۔ ہر ایک مستقبل رخی (future-oriented) زندگی گزارنے لگے۔ حال رخی زندگی، تعمیرِ دنیا کے اصول پر قائم ہے، جب کہ مستقبل رخی زندگی آخرت کے لیے تیاری کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں، وہی کامیاب ہیں اور جو لوگ اِس حقیقت سے بے خبر ہیں، وہی ناکام۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues