انسان اور شیطان
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰
انسان اور شیطان
انسان کے اندر بیک وقت دو قسم کے جذبات ہیں ۔ دوستی کا جذبہ، اور دشمنی کا جذبہ۔ یہ دونوں جذبات فطری ہیں اور وہ ہر عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طور پر پائے جاتے ہیں، کوئی بھی شخص ان جذبات سے خالی نہیں۔
مگر ان دونوں جذبات کے استعمال کا رخ الگ الگ ہے۔ دوستی کا جذبہ، انسان کے لیے ہے اور دشمنی کا جذبہ شیطان کے لیے۔ شیطان اول دن سے انسان کا دشمن ہے۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان پیدائشی طور پر دوسرے انسانوں کا دشمن نہیں۔ یہ دراصل شیطان ہے جو انسان کو انسان کا دشمن بنا دیتا ہے۔ شیطان کی ساری کوشش یہ ہے کہ انسان کے اندر دشمنی کے جو جذبات ہیں، وہ ان کو پھیر کر انسان کی طرف کر دے۔ وہ شیطان کا دشمن بننے کے بجائے انسان کا دشمن بن جائے۔ یہی انسان کا امتحان ہے۔ جب کبھی کسی عورت یا مرد کو محسوس ہو کہ اس کے اندر کسی انسان کے لیے دشمنی کے جذبات پیدا ہورہے ہیں تو وہ اس کو شیطان کا وسوسہ سمجھے اور فوراً ہی کوشش کر کے اپنے منفی احساسات کو مثبت احساس میں تبدیل کرے۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں بتایا گیا ہے کہ: إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء (المائدة: 91) یعنی شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے:
Satan seeks to stir up enmity and hatred among you (5: 19). دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف شکایت کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کے مواقع شیطان کو انسان کے اندر داخل ہونے کا راستہ دے دیتے ہیں۔ اب شیطان یہ کرتا ہے کہ وہ ان شکایتی اسباب کو خوب بڑھاتا ہے، وہ شکایت کو نفرت تک پہنچادیتا ہے اور پھر نفرت کو تشدد تک۔ انسان کو چاہیے کہ وہ شیطان کو یہ موقع نہ دے کہ وہ ان منفی لمحات کو اپنے حق میں استعمال کرے اور ایک انسان کو دوسرے انسان کے خلاف بھڑکا دے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو شیطان کا معمول (object) بننے سے بچائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues