Al-Risala · November 2008 · page 24

دین یا کلچر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۴

دین یا کلچر

ایک مستشرق (orientalist) نے مختلف مذاہب کا مطالعہ کیا، پھر اُس نے ایک کتاب لکھی۔ اِس کتاب میں اُس نے اپنے مطالعہ کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ ہر مذہب کا آغاز ایک آئیڈیالوجی کے طور پر ہوتا ہے، لیکن بعد کی نسلوں میں وہ صرف ایک کلچر بن کر رہ جاتا ہے: Every religion begins as an ideology, but after some generations it is reduced to a culture. یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد کے زمانے میں ہر مذہب کا یہی حال ہوا ہے۔ تاہم یہ صرف دوسرے مذاہب کا معاملہ نہیں، یہی معاملہ خود اسلام کے ساتھ بھی بعد کے زمانے میں پیش آیا ہے۔ اسلام اپنے متن (text) کے لحاظ سے بلاشبہ ایک محفوظ مذہب ہے۔ اسلام کی تعلیمات آج بھی پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہیں، لیکن جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، موجودہ زمانے کے مسلمان عملاً مذکورہ عمومی صورتِ حال کا مصداق بن چکے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جس ’دین‘ پر ہیں، وہ دراصل ایک کلچر ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں خدا کا بھیجا ہوا دین۔

دین کا تعلق وحیِ الہیٰ سے ہے، اور جہاں تک کلچر کا تعلق ہے، وہ جغرافی حالات کے اعتبار سے بنتا ہے۔ بعد کے زمانے میں جو قومیں اسلام میں داخل ہوئیں، ان کا اپنا ایک علاقائی کلچر تھا۔ ان قوموں نے جب اسلام کو اختیار کیا، تو انھوں نے اسلام کے کلمہ کو تو لے لیا، مگر اپنے کلچر کو نہیں چھوڑا۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ قدیم کلچر کو اسلامائز (Islamize) کر کے اُس کو کم و بیش اپنی زندگیوں میں باقی رکھا۔ یہ صورتِ حال تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے۔

یہ احیاءِ اسلام کا موضوع ہے۔ اور اس احیاء کی ضرورت ہر ملک اور ہر علاقے میں پائی جاتی ہے۔ ایک صبر آزما کوشش ہی کے ذریعے احیاءِ اسلام کے اس کام کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ آج خود مسلمانوں کو اسلامائز کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ خارجی دنیا کو اسلامائز کرنے کی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يأيها الذين آمنوا، آمنوا (النساء: 136)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page