Al-Risala · November 2008 · page 26

بے نتیجہ بھیڑ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶

بے نتیجہ بھیڑ

میں نے ایک مشہور مسلم اسپیکر کا انٹرویو پڑھا۔ اس انٹرویو میں انھوں نے پرمسرت انداز میں اپنے ایک پروگرام کا ذکر کیا تھا۔ انھوں نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ منتظمین نے مجھ سے بتایا تھا کہ وہ اس پبلک لیکچر میں تین ہزار لوگوں کی شرکت کی امید رکھتے ہیں، لیکن ماشاء اللہ، وہاں تقریباً بیس ہزار آدمی تھے۔ جنھوں نے لیکچر میں شرکت کی:

The organizers had told me that they expected around three thousand for the public lecture, but masha allah, there were some twenty thousand who attended the lecture. (The Muslims World League Journal, April 2008, p. 16). عام طور پر لوگوں کا رجحان یہ ہے کہ وہ بھیڑ (crowd) کو جلسے کی کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں، حالاں کہ کسی جلسے کی کامیابی کا معیار وہ نتیجہ ہے جو افراد کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے۔ میں نے بار بار اس کا تجربہ کیا ہے کہ جو لوگ بھیڑ والے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں، اُن سے جب پوچھا جائے تو وہ شان دار الفاظ میں جلسے کی تعریف کریں گے، لیکن اگر اُن سے یہ سوال کیا جائے کہ تم ذاتی طور پر وہاں سے کیا پیغام لے کر لوٹے، یعنی تمھارا اپنا ٹیک اوے (takeaway) کیا تھا۔ اِس سوال کے جواب میں آدمی کے پاس کچھ بھی کہنے کے لیے نہیں ہوتا۔ وہ بار بار جوش کے ساتھ یہ کہے گا کہ ہم کو بہت کچھ ملا، لیکن اگر پوچھا جائے کہ متعین (specific) طور پر کوئی ایک بات بتاؤ، تو وہ اِس کے جواب میں کچھ بھی نہیں بتا پاتا۔ ایسا کیوں ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ فرد کی نفسیات الگ ہوتی ہے، اور مجمع کی نفسیات الگ۔ اگر آپ ایک، یا چند آدمی سے براہِ راست طور پر کوئی بات کہیں، تو وہ آدمی اپنے آپ کو اس کا مخاطب سمجھے گا اور بات کو بخوبی طور پر پکڑے گا، لیکن جب ایک مقرر شان دار اسٹیج پر لاؤڈ اسپیکر کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور ایک بھیڑ کو مخاطب کرتا ہے، تو ایسے عمومی ماحول میں مقرر کی بات فضا میں بکھر جاتی ہے۔ کوئی بھی ایک شخص اپنے آپ کو اس کا مخاطب نہیں سمجھتا۔ اس لیے اس قسم کی بھیڑ میں کسی فرد کا مائنڈ ایڈریس نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page