Al-Risala · November 2008 · page 27

بے نتیجہ بھیڑ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۷

یہی وجہ ہے کہ ہم یہ منظر دیکھتے ہیں کہ جب سے پریس اور اسٹیج اور میڈیا کا زمانہ آیا ہے، بڑے بڑے مقرر پیدا ہوئے۔ انھوں نے ہزاروں مواقع پر شان دار ماحول میں بڑی بڑی بھیڑ کو خطاب کیا ہے، لیکن نتیجے کے اعتبار سے یہ تمام خطابات صفر کے درجے میں بے نتیجہ رہے۔ اس طرح کے خطابات کے نتیجے میں چند انسان بھی بن کر تیار نہیں ہوئے۔ ایسے مقرریں کو خود تو مقبولیت حال ہو جاتی ہے، لیکن جن لوگوں کی بھیڑ کو وہ خطاب کرتے ہیں، وہ لوگ بدستور اپنی سابقہ حالت پر پڑے رہتے ہیں۔ اسی قسم کے ایک مشہور مقرر کے بارے میں میں جانتا ہوں۔ وہ پچاس سال تک بڑی بڑی بھیڑ کو خطاب کرتے رہے، لیکن آخر عمر میں اُن کو محسوس ہوا کہ وہ شان دار خطابات کے باوجود چند آدمی کو بھی اپنا حقیقی ساتھی نہ بنا سکے۔ وہ بھیڑ کے اندر اپنے آپ کو تنہا پاتے تھے۔ اپنی عمر کے آخری زمانے میں اپنے ایک قریبی ساتھی کے نام انھوں نے ایک نجی خط (personal letter) میں اپنے اس غم انگیز احساس کا ذکر کیا اور اپنے آپ کو اس شعر کا مصداق بتایا:

وہ محروم تمنا کیوں نہ سوئے آسماں دیکھے کہ جو لمحہ بہ لمحہ اپنی کوشش رائیگاں دیکھے اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ بھیڑ کو ایڈریس کرنے کے بجائے، افراد کو ایڈریس کیا جائے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے لوگوں کے اندر حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ایک ایسا پولیٹکل لیڈر جس کی ضرورت صرف یہ ہو کہ الیکشن کے وقتی موقع پر لوگ اس کو ووٹ دے دیں، وہ ضرور بھیڑ کو اہمیت دے سکتا ہے۔ لیکن ایک حقیقی مصلح (reformer) کے لیے ضروری ہے کہ وہ فرد فرد کی اصلاح کر کے اپنی ایک ٹیم بنائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی اصول کے مطابق ، اپنی ایک ٹیم بنائی تھی جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب ، یا صحابہ دراصل ٹیم کا دوسرا نام ہے۔ یہ ٹیم سازی بھی ایک عظیم سنتِ رسول ہے۔ امت کے مصلحین کو ہر زمانے میں یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی مقبولیت کی قربانی دے کر اس قسم کی ٹیم بنائیں یہ ٹیم ہی مشن کے تسلسل کی ضامن ہے۔ بھیڑ صرف ایک وقتی نمائش ہے۔ مستقل فائدہ صرف ٹیم کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بھیڑ کا طریقہ صرف ایک سیاسی طریقہ ہے، وہ اسلام کا طریقہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page