Al-Risala · February 2008 · page 3

اختیارِ ایسر ـــ ایک سنّت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۳

اسلامی لٹریچر کا یہ خلا، بلاشبہ ایک عظیم حادثے سے کم نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں نماز کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ: أقيموا الصلوة (البقرۃ: 43) یعنی نماز قائم کرو۔ یہ نماز کے بارے میں اصولی حکم ہے۔ اس کے بعد یہ سوال تھا کہ اس اصول کا عملی انطبا ق کیا ہے۔ علما نے احادیث کا مطالعہ کر کے نماز کی عملی صورت، یا اپلائڈ صلوٰۃ (applied Salah) کے بارے میں بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت کو غیر مشتبہ طور پر یہ معلوم ہو گیا کہ نماز کا عملی فارم کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو لوگ حکم نماز کو تو جانتے، لیکن اُس کی عملی صورت سے بے خبر ہونے کی بنا پر وہ نماز کی باقاعدہ ادائیگی سے محروم رہ جاتے۔

حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت کے بارے میں بھی یہی چیز درکار تھی۔ یہاں بھی ضرورت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے اُس کے عملی انطبا ق کو بھی بتایا جاتا، یعنی یہ بتایا جاتا کہ رسول اللہ نے اپنی تئیس سالہ پیغمبرانہ زندگی میں کس طرح اِس اصول کو عملی طور پر اختیار فرمایا۔ بدقسمتی سے اس دوسرے معاملے میں یہ کام نہ ہوسکا۔ چناں چہ اب یہ صورتِ حال ہے کہ حضرت عائشہ کی یہ قیمتی روایت، حدیث کی کتابوں میں موجود ہے، لیکن امت اُس کے عملی انطبا ق سے بالکل بے خبر ہے۔ خاص طور پر جدید دور میں امت کی زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب سنتِ رسول سے لوگوں کی یہی بے خبری ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، ابدی طور پر خدا کے دین کا عملی نمونہ ہیں۔ دوسری تمام چیزوں کی طرح، جہاد بھی وہی جہاد ہے جس کا نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ملے۔ جہاد کا جو نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں موجود نہ ہو، وہ یقینی طور پر جہاد نہیں ہے بلکہ وہ کوئی اور چیز ہے، خواہ اُس کو اسلامی جہاد کا نام دے دیا جائے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدوّ، واسئلوا الله العافية (صحیح البخاری، كتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ خدا سے عافیت مانگو:

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page