اختیارِ ایسر ـــ ایک سنّت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۴
جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے : ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين، إلا اختار أيسرهما، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے:
اس قسم کی احادیث کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کو دیکھا جائے اور پھر اس معاملے کی تشریح کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ اسلام میں مسلح جہاد، یا قتال صرف ایک غیر مطلوب انتخاب (undesirable option) ہے، وہ ہرگز کوئی مطلوب انتخاب (desirable option) نہیں۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے واقعات واضح طور پر اس نقطۂ نظر کی تائید کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ چناں چہ وہاں کے مشرک سردار آپ کے دشمن بن گئے، پھر بھی آپ کا مشن پھیلتا رہا اور لوگ آپ کے ساتھی بنتے رہے۔ اس طرح تیرہ سال گزر گیے ۔ اب مکہ کے مخالفین نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ آپ کو مار ڈالیں۔
یہ 622 عیسوی کا واقعہ ہے۔ اُس وقت آپ کو دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع تھا۔ ایک یہ کہ مکہ کے سرداروں کے حربی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ، اُن سے مسلح مقابلہ کریں۔ اُس وقت تک مکہ اور اطراف مکہ میں کئی سو افراد آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھی بن چکے تھے ، اس لحاظ سے آپ کے لیے یہ انتخاب بظاہر ایک ممکن انتخاب تھا۔
آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ مسلح ٹکراؤ سے اعراض کریں، خواہ اس مقصد کے لیے آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑے، یعنی آپ پر امن طور پر مکہ کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں، آپ نے یہی دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے مسلح ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پر امن ہجرت کا طریقہ اختیار کر کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues