Al-Risala · November 2008 · page 32

منفی تاثر، مثبت تاثر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۲

منفی تاثر، مثبت تاثر

ایک صاحب نے ایم بی اے (ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن) کا کورس کیا۔ اس کے بعد اُن کو دہلی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی سروس مل گئی۔ انھوں نے اس سروس کی بنیاد پر ہاؤس لون لے کر اپنا ایک گھر بنا لیا۔ اسی طرح انھوں نے کار لون لے کر اپنے لیے ایک کار حاصل کر لی۔ بظاہر اُن کے معاملات درست تھے۔ ایک عرصے کے بعد وہ مجھ سے ملے۔ وہ اُس وقت غصے میں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کمپنی والوں نے میرے ساتھ ایک بے انصافی کی ہے۔ انھوں نے میرے ایک جونیئر کا پروموشن کر دیا۔ میں اس کے مقابلے میں سینئر تھا، مگر میرا پروموشن نہیں ہوا۔ میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا کہ اسی کمپنی کی ملازمت کی وجہ سے شہر میں آپ کا گھر ہو گیا اور آپ کو کار مل گئی۔ اس کا آپ نے کبھی اعتراف نہیں کیا، اور آپ کا پرموشن نہیں ہوا تو آپ اس پر غصہ ہو رہے ہیں۔ یہی عام طور پر تمام عورتوں اور مردوں کا مزاج ہوتا ہے۔ وہ اپنے موافق باتوں کا چرچا نہیں کرتے، لیکن اُن کے مخالف کوئی بات ہو جائے، تو وہ اس کا چرچا خوب کرتے ہیں۔ یہ مزاج انسانی شخصیت کے لیے قاتل ہے۔ ہر انسان کو بہت زیادہ اس مزاج سے بچنا چاہئے۔

انسان کا مزاج یہ ہے کہ اگر سو میں ننانوے مثبت باتیں ہوں، تو وہ اس کی شخصیت کا حصہ نہیں بنیں گی، لیکن اگر ایک منفی بات ہو تو وہی اس کی شخصیت کا حصہ بن جائے گی۔ پانی کے گلاس میں اگر آپ پتھر کا ایک ٹکڑا ڈالیں تو وہ صرف ایک ٹکڑا بن کر پانی میں رہے گا، لیکن اگر آپ اس کے اندر رنگ ڈال دیں تو رنگ پورے پانی میں پھیل جائے گا۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان جب کسی واقعے سے منفی تاثر لے گا تو وہ تاثر اس کی پوری شخصیت کا حصہ بن جائے گا، لیکن اُس کے ساتھ کوئی مثبت واقعہ پیش آئے تو وہ اس کی شخصیت کا صرف ایک محدود جز بن کر پڑا رہے گا۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ منفی تاثر فوراً انسان کے فعّال حافظے کا جز بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت تاثر بہت جلد فراموشی کے خانے میں چلا جاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب کوئی منفی تاثر پیش آئے تو فوراً وہ اس کو بھلا دے، ورنہ اس کو منفی شخصیت کی صورت میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page