دولت کافی نہیں
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۳
دولت کافی نہیں
امریکہ کے بل گیٹس (Bill Gates) کو سافٹ وئر جائنٹ (software giant) کہا جاتا ہے۔ اُن کے پاس کوئی بڑی تعلیمی ڈگری نہیں۔ وہ امریکہ کی ہارورڈ یو نیورسٹی میں پڑھ رہے تھے، پھر انھوں نے فراغت سے پہلے تعلیم چھوڑ دی، مگر جلد ہی وہ کرہ ارض کے سب سے زیادہ دولت مند انسان بن گئے۔ 1999 میں ان کی دولت کا اندازہ ایک سو بلین ڈالر سے زیادہ تھا: The Harvard dropout was the wealthiest person on the planet for years worth more than $ 100 billion in 1999. کمپیوٹر ٹکنالوجی میں انھوں نے نئی ترقیاں کیں۔ ان کا کاروبار ساری دنیا میں اتنا بڑھا کہ وہ کمپیوٹر کنگ کہے جانے لگے۔ لیکن یہ ترقیاں ان کو قلبی سکون نہ دے سکیں۔ اب انھوں نے انسانی مواسات (philanthropy) کو اپنا میدان بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک ادارہ قائم کیا اور اپنی دولت کا تقریباً آدھا حصہ اس میں دے دیا۔ اس ادارے کا نام یہ ہے: Bill and Melinda Gates Foundation 27 جون 2008 کو جب کہ ان کی عمر 52 سال تھی، انھوں نے کمپیوٹر بزنس سے رٹائر ہونے کا اعلان کر دیا۔ اب وہ اپنی بقیہ زندگی زیادہ تر، صحت اور تعلیم کے میدان میں صرف کریں گے اور اپنی کمپنی سے صرف رسمی تعلق باقی رکھیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مادی سامان یا مادی ترقی، انسان کو حقیقی سکون نہیں دے سکتی۔ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس لیے نہیں بنایا کہ یہاں انسان اپنی تمام خواہشیں پوری کرے اور پورے معنوں میں وہ فل فل مینٹ (fulfillment) حاصل کرے۔
موجودہ دنیا ایک محدود دنیا ہے۔ وہ صرف اس لیے ہے کہ انسان اپنی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے اعلیٰ ربانی مقصد میں اپنی توانائی صرف کرے، تاکہ وہ آخرت میں خدا کے ابدی انعام (reward) کا مستحق ٹھہرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues