Al-Risala · November 2008 · page 35

مادی ترقی، روحانی موت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۵

شخصیت کی تعمیر

خدا، انسان کا خالق ہے۔ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے انسان جو کچھ ہے، وہ تمام تر خدائی تخلیق کا نتیجہ ہے۔ لیکن موجودہ دنیا میں انسان کی جو شخصیت بنتی ہے، وہ انسان کی خود اپنی تعمیر کا نتیجہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان پچاس فی صد، خدا کی تخلیق ہے اور پچاس فی صد خود اپنی تعمیر: Every human being is fifty percent God-made, and fifty percent self-made. انسان فطری طور پر ہر قسم کی صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن یہ صلاحیتیں اس کے اندر بالقوہ (potential) کے طور پر ہوتی ہیں۔ اس بالقوہ کو بالفعل (actual) بنانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ یہ ایک عظیم موقع (opportunity) ہے جو ہر عورت اور ہر مرد کوملی ہوئی ہے۔ یہ تمام تر انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اپنے بالقوہ کو بالفعل بنائے، یا اس کے بغیر ہی ایک ناکام انسان کے طور پر مر جائے۔ بالقوہ کو بالفعل بنانا ایک مسلسل عمل (process) ہے جو تا حیات جاری رہتا ہے۔ اس عمل کا آغاز سنجیدہ غور و فکر سے ہوتا ہے۔ سنجیدہ غور و فکر کے ذریعے آدمی سچائی کی معرفت تک پہنچتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کو ہر دن اپنا محاسبہ (introspection) کرنا پڑتا ہے۔ اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو تلاش کرے اور ان کی اصلاح کر کے اپنے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کے عمل کو جاری رکھے۔ شخصیت کی تعمیر (prsonality building) کا یہ عمل آدمی خود کرتا ہے، لیکن اس عمل کو درست طور پر جاری رکھنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اُس کو مسلسل طور پر خدا کی مدد حاصل رہے۔ اس مدد کے حصول کا ذریعہ دعا ہے۔ دعا میں جینے والا آدمی ہی اپنی شخصیت کی تعمیر میں کامیاب ہوتا ہے۔ دعا کے بغیر یہ کام اپنی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ خام لوہا (ore) کی مانند ہوتا ہے۔ ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے خام لوہے کو ترقی دے کر اسٹیل (steel) بنائے۔ یہ کام ہر ایک کو کرنا ہے۔ اس میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page