Al-Risala · November 2008 · page 36

حقیقت پسندانہ عمل، یا چھلانگ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶

حقیقت پسندانہ عمل، یا چھلانگ

ایک صاحب نے ایک دکان کھولی۔ دکان سے اتنی آمدنی ہوتی تھی کہ اُن کا ضروری خرچ چل جائے۔ مگر انھوں نے اپنے گھر کا خرچ بڑھا لیا۔ اس سے مسئلہ پیدا ہوا۔ اب انھوں نے بینک سے قرض لیا، تاکہ اپنی آمدنی کو بڑھائیں۔ مگر قرض کے بعد ان کی مشکلات اور زیادہ بڑھ گئیں۔ یہ ان کے لیے ایک چھلانگ تھی، جو نتیجے کے اعتبار سے الٹی ثابت ہوئی۔ اگر وہ یہ کرتے کہ اپنے خرچ پر کنٹرول کرتے اور محنت کر کے دھیرے دھیرے ترقی کی کوشش کرتے، تو وہ چند سال میں کامیاب ہو سکتے تھے۔ مگر اچانک ترقی کی کوشش اُن کے لیے ایک ایسی چھلانگ تھی جس نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے، مسئلے میں اور زیادہ اضافہ کر دیا۔ چھلانگ کا طریقہ جس طرح فرد کے لیے نقصان دہ ہے، اِسی طرح وہ قوموں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ عراق کے اوپر امریکا کا حملہ (2003) اِسی قسم کی ایک چھلانگ تھا۔ سپر پاور ہونے کے باوجود یہ حملہ امریکا کے لیے الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ثابت ہوا۔

حملہ شروع ہونے سے دو سال پہلے، میں نے اس موضوع پر ایک انٹرویو دیا تھا، جو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (16 ستمبر 2001) میں چھپا تھا۔ اس انٹرویو میں، میں نے پیشگی طور پر کہا تھا کہ ــ امریکا نے اگر عراق پر حملہ کیا، تو وہ اُس کے لیے الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ثابت ہوگا: US aggression would be counter-productive. چناں چہ اس حملے کے بعد امریکا سخت مشکلوں کا شکار ہوگیا۔ عراق پر حملہ، امریکا کے لیے ایک بہت بڑے دلدل میں کودنے کے ہم معنی ثابت ہوا۔

کام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ حقیقت پسندانہ منصوبے کے تحت عمل کیا جائے۔ چھلانگ کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کیا جائے۔ حقیقت پسندانہ عمل میں انسان کی رہ نما اس کی عقل ہوتی ہے، اور چھلانگ کا عمل ہمیشہ جذبات کے زیر اثر پیش آتا ہے۔ عقل سے سوچ کر کیا ہوا عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور جذبات کے تحت کئے جانے والے عمل کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page