Al-Risala · December 2008 · page 5

سیر و سیاحت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۵

سیر و سیاحت

قرآن میں انسان کی مطلوب صفات میں سے ایک صفت سیر و سیاحت بتائی گئی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 22 میں بتایا گیا ہے کہ زمین میں سیر اور سفر کرنے سے عقل میں اضافہ ہوتا ہے (الحج: 46)۔ قرآن کی سورہ نمبر 9 میں اہل ایمان کی صفات میں سے ایک صفت سیاحت بتائی گئی ہے (التوبۃ: 112)۔ قرآن کے ان بیانات کے مطابق، سیر و سیاحت ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سیر و سیاحت کے ذریعے تجربات حاصل ہوتے ہیں، اور تجربات ہر انسان کے لیے ذہنی اور روحانی ترقی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ کتابوں کے مطالعے سے آدمی کو معلومات حاصل ہوتی ہیں، اور تجربات کے ذریعے آدمی کی ذہنی ترقی اور روحانی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سیر و سیاحت(toursim) ایک مستقل انڈسٹری بن گئی ہے۔ لیکن یہ سیر و سیاحت زیادہ تر تفریح اور آؤٹنگ (outing) کے لیے ہوتی ہے۔ قرآن کا مطلوب سفر وہ ہے جو دنیا کے واقعات سے سبق لینے کا ذریعہ بن جائے، جو آدمی کی پختگی (maturity) میں اضافہ کرنے والا ہو، جو آدمی کے اندر وہ گہرائی پیدا کرے جس کو بصیرت اور معرفت کہا جاتا ہے۔ آدمی اگر سفر نہ کرے تو وہ صرف اپنے مقامی حالات سے باخبر ہوتا ہے، اس کو اپنی تربیت کے صرف محدود مواقع ملتے ہیں، لیکن جب وہ اپنے مقامی ماحول سے نکل کر باہر کی دنیا میں جاتا ہے تو اس کو اپنی تربیت کے عالمی مواقع حاصل ہوجاتے ہیں۔ اس کے اندر آفاقی نظر پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ مختلف قوموں کے واقعات سے عبرت اور نصیحت لینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پہلے اگر اس کا انٹریکشن (interaction) مقامی دائرے تک محدود تھا، تو سفر اس کو بین اقوامی انٹریکشن کے قابل بنا دیتا ہے۔ سفر نہ کرنے کی صورت میں آدمی محدود طور پر صرف اپنے لوگوں میں رہتا ہے۔ لیکن جب وہ سفر کرتا ہے تو اس کا ربط عام انسانوں سے قائم ہو جاتا ہے۔ اب وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ عالمی تجربات سے فائدہ اٹھائے، وہ زیادہ بہتر طور پر اپنی زندگی کی تعمیر کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page