Al-Risala · December 2008 · page 6

دعوت، تذکیر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۶

دعوت، تذکیر

اسلامی تحریک کے دو بڑے میدان ہیں— ایک، مسلمانوں میں، اور دوسرا، غیرمسلموں میں۔ یہ دونوں ہی کام اہمیت کے حامل ہیں، لیکن دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اسی لیے قرآن میں دونوں قسم کے کاموں کے لیے دو الگ الگ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان اسلامی تحریک کے لیے قرآن میں تذکیر کا لفظ آیا ہے۔ مثلاً: وذكر فإن الذكرى تنفع المؤمنين (الذاريات: 55)۔ اسی طرح، غیرمسلموں میں کام کی نسبت سے قرآن کی ایک آیت یہ ہے: كبر على المشركين ما تدعوهم إليه (الشورى: 13)۔ پہلی آیت میں، مسلمانوں کے درمیان اسلامی عمل کو تذکیر کہا گیا ہے اور دوسری آیت میں غیر مسلموں کے درمیان اسلامی عمل کے لیے دعوت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

تذکیر کے لفظی معنی ہیں— یاد دہانی (toremind)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان کا اقرار کرکے اسلام کے حلقے میں داخل ہو چکے ہیں، اُن کو اپنے اقرار پر پورا اترنے کی یاد دہانی کرنا، ان کے اندر جب بھی کوئی عملی کمی پیدا ہو، تو ان کو نصیحت اور یاد دہانی کے ذریعے اپنے اقرار پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرنا۔ اس قسم کا کام صرف ان لوگوں کے اوپر کیا جاتا ہے جو اپنے مومن اور مسلم ہونے کا اعلان کر چکے ہوں۔ یہی تذکیر کا مطلب ہے اور اسی بنا پر اہل ایمان کے درمیان اسلامی کام کو تذکیر کہا گیا ہے۔ غیرمسلموں کے درمیان اسلامی کام کے لیے قرآن میں دعوت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قرآن کی جن جن آیتوں میں اپنی معاصر قوموں پر پیغمبرانہ عمل کا ذکر ہے، وہاں دعوت کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی پیغمبر کا اپنے غیرمسلم مدعو کو خطاب کرنا۔ یہ دعوت کے لفظی معنی کے عین مطابق ہے۔ عربی زبان میں، دعوت کا مطلب ہے— کسی چیز کی طرف بلانا، پکارنا (to call, to invite)۔ عمل دعوت اور عمل تذکیر کے اس فرق کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے، ورنہ آدمی کنفیوژن میں رہے گا، وہ دونوں میں سے کسی کام کا حق ادا نہ کر سکے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page